عنوان: کرنٹ والے ریکٹ اور دیگر الیکٹرانک آلات سے مچھروں کو مارنے کا حکم(107631-No)

سوال: آج کل مچھروں کو مارنے کے لئے ایک ریکٹ ملتا ہے، جس میں تاریں ہوتی ہیں اور اس میں کرنٹ ہوتا ہے اور جب مچھر ان تاروں سے ٹکراتا ہے، تو کرنٹ سے مرجاتا ہے، سوال یہ ہے کہ مچھروں کو کرنٹ والے ریکٹ سے مارنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کرنٹ والے ریکٹ یا دیگر الیکٹرانک آلات میں بجلی ہوتی ہے، آگ نہیں ہوتی، لہذا ضرورت کے وقت کرنٹ والے ریکٹ یا دیگر الیکٹرانک آلات سے مچھروں کو مارنے کی گنجائش ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی الھندیۃ:

قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال لا يثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء فالأولى أن لا يتعرض بقتل شيء منه كذا في جواهر الفتاوى.

(ج: 5، ص: 361، ط: دار الفکر)

وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:

وقد ذهب الحنفية والمالكية إلى جواز قتل الحشرات، لكن المالكية شرطوا لجواز قتل الحشرات المؤذية أن يقصد القاتل بالقتل دفع الإيذاء لا العبث

(ج: 17، ص: 284، ط: دار السلاسل)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 290
current walay racket eletronic aalat say machron ko maarne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.