عنوان: جس کے پاس نصاب کے بقدر مال تو ہے، لیکن ضروریات اصلیہ سے زائد نہیں ہے، اس کے لئے زکوٰۃ لینے کا حکم(107658-No)

سوال: مفتی صاحب ! کسی کی ملکیت میں ایک لاکھ روپے آگئے، اس نے زکوۃ کی تاریخ لکھ لی، اب سال کے دوران اس کے پاس صدقے فطر کے نصاب کے برابر بھی مال نہیں ہے تو کیا یہ شخص اب زکاۃ کا مستحق شمار ہوگا یا نہیں؟ یا اگر سال کے شروع میں تو نصاب کے برابر مال ہے، لیکن درمیان اور آخر سال میں نہیں ہے، تو کیا مستحق زکاۃ شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب: جس شخص کے پاس کچھ مال ہے، مگر اتنا نہیں کہ نصاب کو پہنچ جائے یا مال تو بقدرِ نصاب ہے، مگر ضروریات اصلیہ کے علاوہ نہیں ہے، (ضروریات میں رہنے کا مکان ، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن وغیرہ سب داخل ہیں،) تو ایسے شخص کے لئے زکوٰۃ لینا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالی:

"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ"

(سورۃ التوبہ، رقم الآیۃ: 60)

قال صاحب الھدایہ:

و لا یجوز دفع الزکوہ الی من یملک نصابا من ای مال کان، لان الغنی الشرعی مقدربه، و الشرط ان یکون فاضلا عن الحاجۃ الاصلیۃ، و انما النماء شرط الوجوب، و یجوز دفعھا الی من یملک اقل من ذلک و ان کان صحیحا مکتسبا، لانہ فقیر، و الفقراء ھم المصارف، و لان حقیقۃ الحاجۃ لا یوقف علیھا، فادیر الحکم علی دلیلھا، و ھو فقد النصاب۔

(ج: 1، ص: 224، ط: مکتبہ رحمانیہ)

کذا فی فتاویٰ جامعہ بنوری تاؤن:

(رقم الفتویٰ: 143908200509)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 212

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.