عنوان: کبیرہ گناہ کرنے والے کو کافر کہنے کا حکم(107689-No)

سوال: میرے ماموں جسے کبیرہ گناہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو اسے کافر کہہ دیتے ہیں، اس بارے میں رہنمائی فرمادیں کہ کیا کبیرہ گناہ کرنے والے کو کافر کہنا درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کبیرہ گناہ کرنے سے کوئی مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ہے، لہذا کسی گناہ گار مسلمان کو کافر کہنا درست نہیں ہے، بلکہ اسے کافر کہنا، جبکہ اس نے کفر کا ارتکاب نہ کیا ہو، خود ایک کبیرہ گناہ ہے، لہذا کبیرہ گناہ کرنے والے مسلمانوں کو کافر کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی فتح الملھم:

(فقال رسول اﷲﷺ اللھم ولیدیہ فاغفر)فی ھذا الحدیث حجۃ لقاعدۃ عظیمۃ لاھل السنۃ ان من قتل نفسہ او ارتکب معصیۃ غیرھا ومات من غیر توبۃ فلیس بکافر ولایقطع لہ بالنار بل ھو فی حکم المشیئۃ۔

(ج: 2، ص: 269)

وفی حاشیۃ النووی علی الصحیح لمسلم:

ان مذھب اھل الحق انہ لایکفر المسلم بالمعاصی کالقتل والزنا۔

(ج: 1، ص: 57)

وفی شرح العقائد:

والکبیرۃ لاتخرج العبد المؤمن من الایمان ولا تدخلہ فی الکفر …… ان حقیقۃ الایمان ھوالتصدیق القلبی فلا یخرج المؤمن عن الا تصاف بہ الابما ینافیہ ومجرد الاقدام علی الکبیرۃ لغلبۃ شھوۃ أوحمیۃ …… خصوصا اذا اقترن بہ خوف العقاب ورجاء العفو والعزم علی التوبۃ لاینافیہ نعم اذا کان بطریق الاستحلال والاستخفاف کان کفرا …… الاٰیات والاحادیث الناطقہ باطلاق المؤمن علی العاصی کقولہ تعالی یآایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ وقولہ تعالی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا وقولہ تعالی وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا الآیۃ۔

(ص: 182)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 129

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com