عنوان: کوچنیل (Cochineal) نامی کیڑے سے کشید کردہ رنگ (carmine color) کا شرعی حکم(107718-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کوچنیل نامی کیڑے سے کشید کردہ رنگ کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟ عموماً یہ رنگ کھانے پینے، کاسمیٹکس کی اشیاء اور دیگر داخلی اور خارجی استعمال کی اشیاء میں بطورِ سرخ رنگ کے استعمال ہوتا ہے، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: کوچنیل (COCHINEAL) ایک چھوٹا سا کیڑا (insect) ہے، جو جسامت میں مکھی کے برابر ہوتا ہے، اس کیڑے کو چند مراحل سے گزار کر اس سے سرخ رنگ کا مادہ حاصل کیا جاتا ہے، جو جزوِ ترکیبی (ingredient) کے طور پر کھانے پینے اور دیگر خارجی استعمال کی اشیاء میں بطورِ سرخ رنگ استعمال ہوتا ہے، اسے کارمائن (carmine) یا کارمینک ایسڈ (carminic acid) بھی کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کوچنیل کیڑے میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا، لہذا یہ کیڑا پاک ہے، اور اس کا خارجی استعمال (external use) جائز ہے، جیسے: کاسمیٹکس کی اشیاء، مرہم، شیمپو، کریم وغیرہ میںِ اگر اس کیڑے سے کشید کردہ رنگ شامل ہو، تو چونکہ یہ رنگ پاک ہے، لہذا ان چیزوں کا استعمال بھی جسم کے خارجی حصے پر جائز ہوگا۔

مگر چونکہ کیڑے کھانا ناجائز ہیں، لہذا کوچنیل کا کسی بھی قسم کا داخلی استعمال جائز نہیں ہے، جیسے: کھانے کی اشیاء ، مثلاً : آئس کریم، مٹھائی، کیک وغیرہ، اس طرح مشروبات وغیرہ میں اگر اس کیڑے سے کشید کردہ رنگ شامل ہو، تو ایسی چیزوں کا کھانا بھی ناجائز ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی تبیین الحقائق :

(ﻗﻮﻟﻪ: ﻭاﻟﻴﺮﺑﻮﻉ ﻭاﺑﻦ ﻋﺮﺱ ﻣﻦ ﺳﺒﺎﻉ اﻟھﻭاﻡ) :

ﻭاﻟھﻭاﻡ ﺑﺘﺸﺪﻳﺪ اﻟﻤﻴﻢ ﻗﺎﻝ اﻷﺗﻘﺎﻧﻲ : ﺟﻤﻊ اﻟھاﻣﺔ ﻭﻫﻲ اﻟﺪاﺑﺔ ﻣﻦ ﺩﻭاﺏ اﻷﺭﺽ، ﻭﺟﻤﻴﻊ اﻟﻬﻮاﻡ ﻧﺤﻮ اﻟﻴﺮﺑﻮﻉ ﻭاﺑﻦ ﻋﺮﺱ ﻭاﻟﻘﻨﻔﺬ ﻣﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﺳﻜﻨﺎﻩ اﻷﺭﺽ ﻭاﻟﺠﺪﺭ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﺃكله؛ ﻷﻥ اﻟﻬﻮاﻡ ﻣﺴﺘﺨﺒﺜﺔ، ﻭﻗﺪ ﻗﺎﻝ ﺗﻌﺎﻟﻰ : {ﻭﻳﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺨﺒﺎﺋﺚ} [ اﻷﻋﺮاﻑ: 157]؛
ﻭﻷﻧﻬﺎ ﺗﺘﻨﺎﻭﻝ اﻟﻨﺠﺎﺳﺎﺕ ﻓﻲ اﻟﻐﺎﻟﺐ، ﻭﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺃﺳﺒﺎﺏ اﻟﻜﺮاﻫﺔ۔ ﻭﻛﺬا ﺟﻤﻴﻊ ﻣﺎ ﻻ ﺩﻡ ﻟﻪ، ﻓﺄکلہ ﻣﻜﺮﻭﻩ؛ ﻷﻧﻪ ﻛﻟﻪ ﻣﺴﺘﺨﺒﺚ، ﻓﻴﺪﺧﻞ ﺗﺤﺖ ﻗﻮﻟﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ: {ﻭﻳﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺨﺒﺎﺋﺚ}[ اﻷﻋﺮاﻑ: 157]، اﻻ اﻟﺠﺮاﺩ ، ﻓﺈﻧﻪ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ اﻩ.

(فصل فیما یحل اکلہ وما لا یحل اکلہ، ج : 5، ص :294، ط : المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :

ﻭﻣﻦ اﻟﻄﺎﻫﺮ: ﻣﻴﺘﺔ اﻵدمی، ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻛﺎﻓﺮا ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺤﻴﺢ، ﻭﻣﻴﺘﺔ ﻣﺎ ﻻ ﺩﻡ ﻟﻪ ﻣﻦ ﺟﻤﻴﻊ ﻫﻮاﻡ اﻷﺭﺽ، ﻛﻌﻘﺮﺏ ﻭﺟﻨﺪﺏ ﻭﺧﻨﻔﺲ، ﻭﺟﺮاﺩ، ﻭﺑﺮﻏﻮﺙ، ﺑﺨﻼﻑ ﻣﻴﺘﺔ اﻟﻘﻤﻞ، ﻭاﻟﻮﺯﻍ (ﻏﺮاﺏ اﻟﺰﺭﻉ) ﻭاﻟﺴﺤﺎﻟﻲ ﻣﻦ ﻛﻞ ﻣﺎﻟﻪ ﻟﺤﻢ ﻭﺩﻡ، ﺗﻜﻮﻥ ﻧﺠﺴﺔ، ﻭﻟﻜﻦ ﻻ ﻳﺆﻛﻞ اﻟﺠﺮاﺩ ﺇﻻ ﺑﻣﺎ ﻳﻤﻮﺕ ﺑﻪ ﻣﻦ ﺫﻛﺎﺓ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ۔

(ج :1، ص :295، ط : دارالفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 249
cochineal nami kapray say kasheeda rang (carmine color) ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.