عنوان: والد کے چچا زاد بھائی کے پوتے کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم(107734-No)

سوال: مفتی صاحب ! لڑکی کا والد کے چچا زاد یا تایا زاد بھائی کے بیٹے کے لڑکے سے شادی کرنا کیسا ہے؟

جواب: جی ہاں! والد کے چچا زاد بھائی کے پوتے کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ نکاح سے ممانعت کا کوئی اور سبب مثلاً رضاعت وغیرہ نہ پایا جاتا ہو۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لمافی القرآن الکریم:

"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَاَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الاَخِ وَبَنَاتُ الاُخْتِ وَاُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِيْ أَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ اللَّاتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ اَبْنَائِكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلاَبِكُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيْمًا".

(سورۃ النساء:۲۳)

وفی التفسیر المظھری:

"قولہ تعالیٰ: وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ یعنی ماسوی المحرمات المذکورات فی الآیات السابقۃ وخص عنہ بالسنہ والاجماع والقیاس ما ذکرنا من المحرمات فی الشرح وما فوق الاربع من النساء".

(التفسیر المظھری: ۶۶/۲، سورۃ النساء)

کذا فی فتاوی جامعہ بنوری تاؤن:

(رقم الفتوی: 144001200006)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 195
waalid kay chacha zaad bhai kay potay kay sath nikkah karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.