سوال:
میرے ایک دوست کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ وہ 23 سال کا نوجوان ہے، پاکستان میں رہتا ہے، یونیورسٹی میں چھٹے سمسٹر کا طالب علم ہے اور فی الحال بے روزگار ہے۔ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے، اور لڑکی کی طرف سے بھی یہی جذبات ہیں، حالانکہ وہ اس سے چار سال چھوٹی ہے اور ابھی یونیورسٹی میں داخل بھی نہیں ہوئی۔ دونوں تقریباً پچھلے پانچ سال سے تعلق میں ہیں۔
دونوں کے والدین کو معلوم ہے کہ یہ شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن والدین اسے محض وقت گزاری یا بچپن کی بات سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے بچے اب اتنے بڑے ہو چکے ہیں۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود والدین نکاح کی بات سننے کو تیار نہیں، ان کا خیال ہے کہ فی الحال پڑھائی کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
اس تعلق میں فطری طور پر کشش بھی موجود ہے اور اب حالات اس حد تک مشکل ہو گئے ہیں کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ والدین نہ صرف نکاح پر آمادہ نہیں بلکہ بات کرنے پر سختی اور بعض اوقات تشدد تک پر آ جاتے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی جانتے ہیں کہ کال کرنا اور میسج کرنا بھی گناہ ہے، لیکن علیحدہ ہونا ان کے لیے بہت مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کسی سے سن کر خود ہی نکاح کرنے کی کوشش کی کہ اگر ایک فریق ایجاب کرے اور دوسرا قبول، تو نکاح ہو جاتا ہے۔ اس بنیاد پر انہوں نے فون کال پر ایجاب و قبول کیا، لیکن اب وہ اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں کیونکہ نکاح کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔
ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ نہ تو وہ ایک دوسرے سے دور رہ پا رہے ہیں، نہ والدین بات سن رہے ہیں، اور نہ ہی ان کے لیے ذاتی طور پر ملنا آسان ہے۔ وہ مزید گناہوں میں نہیں پڑنا چاہتے، سچی توبہ کرنا چاہتے ہیں اور شریعت کے مطابق کوئی ایسا عملی حل چاہتے ہیں جو ان کے حالات کے مطابق ممکن ہو۔
براہِ کرم ان کی صورتحال کے مطابق رہنمائی فرمائیں، یہ بھی واضح کریں کہ کیا وہ فون پر کیا گیا نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں، اور اگر درست نہیں تو ان کے لیے اور کیا ممکنہ راستے موجود ہیں۔
جواب: فون کال پر ایجاب و قبول کرلینے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوا، اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ والدین کو نکاح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے، اور والدین کو بھی چاہیے کہ بلاوجہ نکاح میں تاخیر نہ کریں، اور اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں، اگر دونوں خاندان ایک دوسرے کا کفو ہیں تو والدین کو نکاح کردینا چاہیے، حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین نصیحتیں فرمائیں:
"اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو: نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے، اور بے شوہر عورت جب اس کا کفو میں رشتہ مل جائے۔" (مسند احمد: حدیث نمبر: 828)
تاہم اگر لڑکا اور لڑکی عاقل، بالغ ہوں اور وہ شرائط نکاح کی رعایت کرتے ہوئے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں تو ان کا نکاح والدین کی رضامندی کے بغیر بھی منعقد ہوجاتا ہے، البتہ اگر لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کیا ہو تو ولی ایسے نکاح کو عدالت سے فسخ کروانے کا اختیار رکھتا ہے، بشرطیکہ ولی اولاد ہونے سے پہلے اپنے اس حق کو استعمال کرلے، ورنہ اس کا یہ حق ساقط ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مسند أحمد: (2/ 197، رقم الحديث: 828، ط: الرسالة)
حدثنا هارون بن معروف، - قال عبد الله: وسمعته أنا من هارون - أخبرنا ابن وهب، حدثني سعيد بن عبد الله الجهني، أن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب حدثه، عن أبيه، عن جده علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ثلاثة يا علي لا تؤخرهن: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت كفؤا.»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی