سوال:
ایک شخص کی پہلے منگنی ہوئی پھر کچھ عرصے کے بعد نکاح ہوا، رخصتی اب ہونی تھی لیکن جھگڑے کی وجہ سے نہیں ہوئی، جھگڑا سسرال والوں کی طرف سے شروع ہوا، اب بات آکر طلاق پر رکی ہوئی ہے، شوہر منگنی کے موقع پر مختلف مدات میں خرچہ کرچکا ہے، مثلاً: منگیتر کو کپڑے وغیرہ دے دیئے تھے، مٹھائی وغیرہ تقسیم کی تھی، لڑکے والے ان اخراجات کے مطالبے کا شرعا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟
نکاح کے وقت اور بعد از نکاح بھی مختلف تحائف دیتا رہا ہے، نیز ڈھائی لاکھ روپے مہر مقرر تھا جس میں سے تقریبا دو لاکھ دے چکا ہے ان اخراجات کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟
اگر نہیں تواپنے آپ کو نقصان سے بچانے کے لیے اتنے پیسوں کے عوض خلع کرسکتا ہے یا نہیں؟ نیز رخصتی نہ دینے پر جو بے عزتی ہوئی ہے، اس کے عوض مالی جرمانہ لیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ ہمارے ہاں عموماً ایسے معاملات میں علاقے کے میر و معتبر سردار نواب وڈیرے وغیرہ فیصلہ کرتے ہیں اور پھر پیسوں پر صلح کروائی جاتی ہے اور خصمین میں سے جو قصوروار ہو، اس سے پیسے لے کر مخالف کو دئیے جاتے ہیں اور معاملہ نمٹا دیا جاتاہے، شرعاً ان پیسوں کے متعلق بھی بتائیے کہ ان کا لیا جانا درست ہے یا نہیں؟
جواب: ١) منگنی اور نکاح کے موقع پر دی گئی چیزوں میں اگر وہ اشیاء استعمال ہو چکی ہوں (جیسے کھانا، مٹھائی، دعوت وغیرہ) تو ان کی واپسی کا شرعاً کوئی حق نہیں، کیونکہ وہ ہلاک ہو چکی ہیں، البتہ جو اشیاء باقی ہوں (جیسے: کپڑے وغیرہ) تو اگر وہ منگنی کے وقت دی گئی تھیں اور اپنی اصل حالت میں موجود ہوں تو باہمی رضامندی یا قضاء قاضی سے اس کامطالبہ ممکن تو ہے، تاہم ایسا کرنا ہبہ میں رجوع ہونے کی وجہ سے مکروہ ہوگا، جبکہ نکاح کے بعد دیے گئے تحائف اگر بطور ہبہ مالک بناکر دیے گئے ہوں تو فقہِ حنفی میں زوجیت کا تعلّق رجوع فی الہبہ (یعنی ہبہ دے کر واپسی لینے) سے مانع ہے، لہٰذا نکاح کے بعد دی گئی اشیاء واپس لینے کا حق نہیں رہتا۔ ہاں! اگر استعمال کے لیے بطورِ عاریت دیئے گئے ہوں تو پھر واپس لینے کا حق ہوگا۔
۲) اگر نکاح ہو چکا ہو لیکن رخصتی اور خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو تو طلاق کی صورت میں عورت نصف مہر کی مستحق ہوتی ہے، لہٰذا اگر کل مہر 2,50,000 روپے تھا تو اس کا نصف 1,25,000 روپے بنتا ہے، چونکہ شوہر 2,00,000 روپے ادا کر چکا ہے، اس لیے وہ زائد ادا شدہ 75,000 روپے واپس لینے کا حق رکھتا ہے، جبکہ 1,25,000 روپے عورت کا شرعی حق ہے اور اس سے واپس نہیں لیے جا سکتے۔
۳) اگر شوہر مزید مالی نقصان سے بچنا چاہے تو خلع کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس میں وہ بیوی کو اس شرط پر علیحدگی کی پیشکش کرے کہ وہ مہر یا دیگر دی گئی اشیاء واپس کر دے۔ اگر عورت اس پر راضی ہو جائے تو خلع (طلاقِ بائن) واقع ہو جائے گی اور طے شدہ مال کی واپسی لازم ہوگی۔ خصوصاً جب قصور عورت یا اس کے گھر والوں کی طرف سے ہو تو خلع میں مال کی واپسی لینا جائز ہے۔
۴) شریعت میں عزّت و آبرو کو مالی چیز نہیں سمجھا جاتا جس کا معاوضہ لیا جائے، اس لیے محض بے عزتی، تاخیر یا بدسلوکی کی بنیاد پر مالی جرمانہ یا ہرجانہ طلب کرنا فقہِ حنفی کے مطابق جائز نہیں ہے۔ اسے "تعزیر بالمال" کہا جاتا ہے جو جمہور احناف کے نزدیک ناجائز ہے۔
۵) جرگہ یا پنچایت کی طرف سے کسی فریق پر زبردستی مالی جرمانہ عائد کر کے دوسرے کو دینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔ صرف حقیقی مالی نقصان کی صورت میں اتنی ہی مقدار کا تاوان لیا جا سکتا ہے، لیکن محض قصور، جھگڑے یا بے عزّتی کی بنیاد پر پیسے لینا "اکلِ مال بالباطل" میں داخل ہے جو کہ ناجائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن الکریم: (سورۃ النساء، الایة: 29)*
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ"
*الطحطاوي علی الدر: (44/2، ط:دار المعرفۃ بیروت)*
خطب بنت رجل وبعث إلیہا أشیاء ولم یزوجہا أبوہا فما بعث للمہر یسترد عینہ قائماً فقط، وإن تغیر بالاستعمال أو قیمتہ هالکًا؛ لأنہ معا وضۃ ولم تتم فجاز الاسترداد، وکذا یسترد ما بعث هدیۃ وهو قائم دون الہالک والمستہلک؛ لأن فیہ معنی الہبۃ.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 153، ط: دار الفكر-بيروت)*
( خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما ) فقط وإن تغير بالاستعمال ( أو قيمته هالكا ) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد ( وكذا ) يسترد ( ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك ) لأنه في معنى الهبة ۔وفی الردتحتہ:قوله ( لأنه في معنى الهبة ) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها وعبارة البزازية لأنه هبة اھ ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع.
*الفتاوى الهندية: (1/ 323، ط: دار الفكر)*
تزوج امرأة وبعث إليها هدايا وعوضت المرأة على ذلك عوضا ثم زفت إليه ثم فارقها وقال إنما بعثت إليك عارية وأراد أن يسترد ذلك وأرادت المرأة أن تسترد العوض فالقول له في الحكم وإذا استرد ذلك من المرأة كان للمرأة أن تسترد منه ما عوضته عليه كذا في المحيط۔
*شرح المجلۃ للاتاسی: (3/ 393، ط: رشيدية)*
"للواهب أن يراجع عن الهبة قبل القبض بدون رضا الموهوب له ... وهل يكره ذلك كما يكره الرجوع بعد القبض؟ الظاهر أنها لا تخلو عن الكراهة، لأن الرجوع ليس بأقل من الخلف بالوعد".
*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 322، ط: دار الفكر)*
(وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى) لقوله تعالى {وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن} [البقرة: 237] الآية
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ" (سورۃ البقرۃ، آیت: 229)
*الفتاوى الهندية: (1/ 488، ط: دار الفكر)*
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.
*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (8/ 32، ط: دار الفكر)*
الثابت بالعرف كالثابت بالنص، وكذا في المبسوط.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (4/ 62، دار الفكر-بيروت)*
والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال .
*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (7/ 5596، ط: دار الفكر - سوريَّة – دمشق)*
التعزير بالمال: لا يجوز التعزير بأخذ المال في الراجح عند الأئمة لما فيه م تسليط الظلمة على أخذ مال الناس، فيأكلونه.
*السنن الکبریٰ للبیہقی: (رقم الحدیث: 11325)*
"لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ."
*الفتاوى الهندية: (2/ 167، ط: دار الفكر)*
يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی