سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میں اپنے ازدواجی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں، میرے شوہر اکثر غصے میں مجھے اور میرے والدین کو بہت بری باتیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے ناراض ہو کر کمرہ بھی الگ کیا ہوا ہے اور بات چیت میں اکثر بدتمیزی اور دل دکھانے والی باتیں کرتے ہیں۔
میں کوشش کرتی ہوں کہ بحث نہ ہو اور خاموشی اختیار کروں، لیکن ان کا رویہ بار بار ایسا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر (ذی الحج کے) ان بابرکت دنوں میں مجھے سمجھ نہیںآ رہی کہ ایسے حالات میں بیوی کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیا خاموش رہنا بہتر ہے یا بات کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟
میں اپنے والدین کی بے عزتی کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ ایسے شوہر کے ساتھ بیوی کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور شوہر کے لیے کیا نصیحت ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ اسلام نے میاں بیوی کے رشتے کو محبّت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ازدواجی زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے راحت، اعتماد اور قلبی سکون کا سبب بنیں، لیکن بعض اوقات گھریلو زندگی میں تلخی، غصّہ اور بدزبانی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جن سے گھر کا ماحول متاثّر ہوتا ہے اور دلوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ خصوصاً جب شوہر بیوی یا اس کے والدین کے بارے میں گالم گلوچ کا رویّہ اپنائے تو یہ معاملہ نہایت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔
حالانکہ قرآنِ کریم میں شوہروں کو حکم دیا گیا ہے: "اور ان (عورتوں) کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو۔" (سورۃ النساء: 19)
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام شوہر کو حسنِ اخلاق، نرمی اور عزّت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور تم سب کی نسبت میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:1977)
لہٰذا بیوی کے ساتھ سختی، بدزبانی اور تحقیر آمیز گفتگو کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، اسی طرح بیوی کے والدین کو برا بھلا کہنا بھی اخلاقی اور شرعی اعتبار سے سخت ناپسندیدہ عمل ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف دل آزاری ہوتی ہے، بلکہ میاں بیوی کے رشتے میں نفرت اور کدورت پیدا ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں بیوی کو چاہیے کہ وہ جذبات میں آکر جھگڑا کرنے کے بجائے صبر، حکمت اور برداشت سے کام لے، اگر کبھی شوہر غصے کی حالت میں ہو تو خاموشی اختیار کرے، ان شاء اللہ! اس سے حالات بہتر ہونے اور آپس کی الفت بڑھنے کی امید ہے، البتہ اگر شوہر کا رویّہ مسلسل نامناسب رہے تو مناسب وقت دیکھ کر نرمی اور حکمت کے ساتھ اپنی تکلیف اور پریشانی شوہر کے سامنے بیان کرنی چاہیے تاکہ مسئلہ باہمی گفتگو سے حل ہو سکے۔
اگر اس کے باوجود معاملہ بار بار خراب ہوتا رہے اور شوہر کے رویّے میں بہتری نہ آئے تو خاندان کے کسی سمجھدار اور غیر جانبدار معتبر شخصیت کو درمیان میں شامل کرنا مفید ہے، تاکہ اصلاح اور صلح کی کوئی صورت پیدا ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو چاہیے کہ صبر، دعا اور حکمت کے ساتھ معاملہ کو اللہ کے سپرد کردے، ان شاءاللہ! اس طرح اللہ تعالیٰ کی معیّت شاملِ حال رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (سورۃ النساء،الآیة:19)*
يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا ۖ وَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا
*وقوله تعالیٰ: (سورۃ النساء، الآية:35)*
وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۗ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا
*سنن ابن ماجه: (بَابُ حُسْنِ مُعَاشَرَةِ النِّسَاءِ، حدیث نمبر:1977)*
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي ".
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی