سوال:
میں ایک ایسی خاتون سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جو ابراہیمی مذاہب میں سے کسی کی پیروکار نہیں ہے۔ تاہم میں ابھی تذبذب کا شکار ہوں، کیونکہ اس کے بنیادی عقائد درج ذیل ہیں:
وہ ایک طاقت، ایک معنی، ایک خالق قوت، ایک اعلیٰ اور ہر چیز کو محیط عقل، ایک عظیم راز کے وجود پر یقین رکھتی ہے۔ میرے لیے اسے “God” یا “Allah” کہنا قابلِ قبول ہے۔ میرا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا “واحد” بیٹا کہنا غلط ہے، کیونکہ ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں، صرف وہی نہیں۔ نیز میں یہ نہیں سمجھتی کہ اللہ کے کوئی شریک ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وحدت (Oneness) پر یقین رکھتی ہے۔ انبیاء پر ایمان رکھتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتی ہے، لیکن حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتی، اور یہ بھی سمجھتی ہے کہ عورتیں بھی نبی ہوسکتی ہیں۔
اس کے نزدیک ہر وہ حکمت بھری کتاب جس میں سچائی ہو، اللہ کا کلام ہے، جیسے نیو ٹیسٹامنٹ اور Tibetan Book of the Dead۔
وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنا درست اور دیانت داری پر مبنی نہیں سمجھتی۔ اس کا عقیدہ ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں اور سب ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: مذکورہ خاتون کے بیان کردہ عقائد سے واضح ہوتا ہے کہ وہ روایتی اسلامی عقائد، خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت، وحیِ الٰہی کے مخصوص تصوّر، اور دینِ اسلام کی حقانیت کے بنیادی اصولوں کو تسلیم نہیں کرتی، بلکہ ایک ایسے فکری و فلسفیانہ نظریے کی قائل ہے جس میں تمام مذاہب کو یکساں حق سمجھا جاتا ہے اور خالق و مخلوق کے درمیان وحدتِ وجودی نوعیت کا تصوّر پایا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک خالق کے وجود کی قائل ہے اور تثلیث جیسے عقائد کی نفی کرتی ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہ ماننا اسلام کے قطعی اور ضروری عقائد کے خلاف ہے، اور خود اس عورت کا اپنے آپ کو مسلمان نہ کہنا بھی اس امر کو واضح کرتا ہے کہ وہ شرعی اعتبار سے مسلمان نہیں ہے۔
نیز چونکہ وہ اپنے آپ کو یہودی یا عیسائی (اہلِ کتاب) بھی نہیں کہتی، بلکہ ابراہیمی مذاہب سے الگ ایک ہمہ گیر روحانی نظریے کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے فقہی اعتبار سے اس عورت کو اہلِ کتاب شمار نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا ایک مسلمان مرد کا اس عورت سے نکاح شرعاً جائز نہیں بلکہ باطل ہوگا، البتہ اگر وہ خلوصِ دل سے اسلام قبول کر لے، کلمۂ شہادت پڑھے، اور حضور اکرم ﷺ کی ختمِ نبوت سمیت ضروریاتِ دین پر ایمان لے آئے تو اس سے نکاح درست اور جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن المجید :( البقرة: 221)*
وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ
*و فی مقام آخر: (الاحزاب: 40)*
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
*صحیح البخاری، (رقم الحدیث: 3535)*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ... فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ».
*الفتاوى الهندية (1/ 281 ،دار الفكر)*
لا يجوز نكاح المجوسيات ولا الوثنيات وسواء في ذلك الحرائر منهن والإماء، كذا في السراج الوهاج. ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية وكل مذهب يكفر به معتقده، كذا في فتح القدير.
*تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 109 المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)*
قال - رحمه الله - (والمجوسية والوثنية) ولنا قوله تعالى {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} [البقرة: 221] وقوله - عليه الصلاة والسلام - «سنوا بهم سنة أهل الكتاب غير ناكحي نسائهم، ولا آكلي ذبائحهم» والنكاح حقيقة في الوطء، أو نقول: هو في موضع النفي فيتناول الوطء والعقد، وما ورد في الخبر من جواز وطئهن محمول على الوطء بعد الإسلام، أو هو منسوخ بما تلونا، ولا عبرة بما روي أن المجوس من أهل الكتاب؛ لأن المعتبر الحالة الحاضرة ألا ترى أن الوثني أيضا من ولد إسماعيل ولا يعتبر ذلك في الحال.
*التفسير المظهري (3/ 41 مكتبة الرشدية – الباكستان الطبعة: 1412 ه)*
وعموم «1» هذه الاية يقتضى جواز نكاح الكتابية الحربية وعليه انعقد الإجماع وكان ابن عباس يقول لا يجوز نكاح الحربية والله اعلم وكان ابن عمر يمنع نكاح الكتابية مطلقا حرة كانت او امة ذمية او حربية لاندراجها فى المشركات قال الله تعالى قالت اليهود عزير ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله وقال الله تعالى ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن وفسّر ابن عمر المحصنات فى الآية بالمسلمات وهذا التفسير غير صحيح فان تفسير المحصنات بالمسلمات ليس من اللغة وقد انعقد الإجماع على حل نكاح الحرة الكتابية وانما الخلاف فى الامة الكتابية كما ذكرنا فى سورة النساء لكنه يكره نكاح الكتابية مطلقا اجماعا لاستلزام النكاح مصاحبة الكافرة وموالاتها وتعريض الولد على التخلق بأخلاق الكفار لاجل مصاحبة الام وموانستها قال ابن همام نكح حذيفة وطلحة وكعب بن مالك كتابيات فغضب عمر رضى الله عنه فقالوا انطلق يا امير المؤمنين وهذه القصة تدل على جواز النكاح حتى يترتب عليه الطلاق وعلى كراهته- (فائدة) روى الخلاف بين ابى حنيفة رحمه الله وصاحبيه رحمهما الله فى نكاح الصابيات جوزه ابو حنيفة رحمه الله زعما منه انهم يؤمنون بزبور داود عليه السلام فهم من اهل الكتاب وكذا من أمن بصحف ابراهيم وشيث عليهما السلام ولم يجوزه صاحباه زعما منهما انهم
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی