resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قومیت کی بنیاد پر نکاح سے انکار — ایک شرعی و معتدل رہنمائی

(42002-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی ایک خاتون ہوں اور گزشتہ 35 سال سے اسلام قبول کر چکی ہوں۔ میرے شوہر مصری ہیں اور ہمارا ایک 24 سالہ بیٹا ہے جو دیندار ہے۔ وہ ایک دیندار مسلم لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، جو ہالینڈ میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی ہے، جبکہ اس کے والدین یمن سے ہیں۔
ابتداء میں لڑکی کے والد ملاقات کے لیے تیار ہو گئے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے بار بار اس رشتے سے صرف اس وجہ سے انکار کر دیا کہ میرا بیٹا یمنی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس بنیاد پر اس شادی کو قبول نہیں کریں گے۔
ہم نے ادب اور احترام کے ساتھ کئی بار ان سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ دونوں (لڑکا اور لڑکی) بالغ ہیں، دیندار مسلمان ہیں اور حلال طریقے سے شادی کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اپنے والدین کا احترام بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اگر والدین صرف نسلی بنیاد (قومیت) پر انکار کر رہے ہوں اور رضامندی نہ دیں تو کیا اسلام میں یہ انکار معتبر ہے؟ اور اس صورتِ حال میں شریعت کے مطابق اس جوڑے کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہّرہ نے نکاح کے باب میں کفو (برابری) کا لحاظ ضرور رکھا ہے، تاہم اسے نکاح کی صحت کے لیے لازمی شرط قرار نہیں دیا ہے، بلکہ اسلام نے نکاح کے لیے اصل معیار دین داری اور حسنِ اخلاق کو بنایا ہے، نہ کہ نسل، رنگ یا قومیت کو، لہٰذا اگر کوئی لڑکا یا لڑکی دیندار، بااخلاق اور مناسب ہو تو محض نسلی یا قومی بنیاد پر رشتہ سے انکار کرنا شریعت کی روح کے خلاف ہے۔
اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ کی واضح ہدایت موجود ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو، ورنہ زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوگا۔” (سنن ترمذی، حدیث: 1084)
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرو: نماز جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے، اور بیوہ کا نکاح جب اس کے لیے مناسب ہمسر مل جائے۔” (جامع ترمذی، حدیث: 171)
خلاصۂ کلام:
شریعت نے والدین اور سرپرست (ولی) کو نکاح کے معاملے میں رائے دینے کا حق دیا ہے، اور ان کا احترام بھی لازم ہے، لہذا اگر انکار کی بنیاد کوئی حقیقی دینی یا اخلاقی خرابی ہو تو وہ معتبر ہوگی، لیکن اگر محض قومیت، نسل یا خاندانی تفاخر کی بنیاد پر اولیاء انکار کریں تو ایسا انکار غیر مناسب اور قابلِ اجتناب ہے، لہذا اگر لڑکی اور اس کے اولیاء کسی رشتے پر مطمئن اور راضی ہوں تو ایسا نکاح شرعاً درست ہے، البتہ اگر لڑکی اپنے اولیاء کی رضامندی کے بغیر غیر کفؤ میں نکاح کر لے تو نکاح ہوجائے گا، لیکن اولیاء کو بچے کی ولادت سے قبل نکاح فسخ کروانے کا حق حاصل ہوگا۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے معاملات میں حکمت، نرمی اور باہمی مشاورت سے مسئلہ حل کیا جائے، اور شریعت کے اصل معیار یعنی دین اور اخلاق کو پیشِ نظر رکھا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 171)*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا : الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا ".

*سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 1084)*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ، وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ".

*مشکوٰۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 3138)*
ﻭﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ ﻭاﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻻ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﻣﻦ ﻭﻟﺪ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻓﻠﻴﺤﺴﻦ اﺳﻤﻪ ﻭﺃﺩﺑﻪ ﻓﺈﺫا ﺑﻠﻎ ﻓﻠﻴﺰﻭﺟﻪ ﻓﺈﻥ ﺑﻠﻎ ﻭﻟﻢ ﻳﺰﻭﺟﻪ ﻓﺄﺻﺎﺏ ﺇﺛﻤﺎ ﻓﺈﻧﻤﺎ ﺇﺛﻤﻪ ﻋﻠﻰ ﺃﺑﻴﻪ.

*بدائع الصنائع: (317/2، ط: دار الكتب العلمية)*
وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم»حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض.

*الدر المختار مع رد المحتار: (56/3، ط: دار الفكر)*
(وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والاصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الاصح. خانية.... وللقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد، وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به.
(قوله في غير الكفء) أي في تزويجها نفسها من غير كفء، وكذا له الاعتراض في تزويجها نفسها بأقل من مهر مثلها، حتى يتم مهر المثل أو يفرق القاضي كما سيذكره المصنف في باب الكفاءة (قوله فيفسخه القاضي) فلا تثبت هذه الفرقة إلا بالقضاء لأنه مجتهد فيه وكل من الخصمين يتشبث بدليل، فلا ينقطع النكاح إلا بفعل القاضي والنكاح قبله صحيح يتوارثان به إذا مات أحدهما قبل القضاء وهذه الفرقة فسخ لا تنقص عدد الطلاق، ولا يجب عندها شيء من المهر إن وقعت قبل الدخول وبعده لها المسمى وهذا بعد الخلوة الصحيحة، وعليها العدة ولها نفقة العدة لأنها كانت واجبة فتح، ولها أن لا تمكنه من الوطء حتى يرضى الولي كما اختاره الفقيه أبو الليث لأن الولي عسى أن يفرق فيصير وطء شبهة.

*الدر المختار مع رد المحتار: (87/3، ط: دار الفكر)*
(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك (نسبا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض، واستثنى في الملتفى تبعا للهداية بني باهلة لخستهم، والحق الاطلاق. قاله المصنف كالبحر والنهر والفتح والشرنبلالية، ويعضده إطلاق المصنفين كالكنز والدرر، وهذا في العرب.
(قوله وأما في العجم) المراد بهم من لم ينتسب إلى إحدى قبائل العرب، ويسمون الموالي والعتقاء كما مر وعامة أهل الأمصار والقرى في زماننا منهم، سواء تكلموا بالعربية أو غيرها إلا من كان له منهم نسب معروف كالمنتسبين إلى أحد الخلفاء الأربعة أو إلى الأنصار ونحوهم.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah