سوال:
ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنے کا فیصلہ کیا، نکاح اس طرح کیا گیا کہ لڑکی نے اپنی ویڈیو بناکر نکاح پڑھانے والے کو اپنی طرف سے وکیل بنایا ، اور لڑکے نے بھی وائس میسج کے ذریعے اسی شخص یعنی نکاح خواں کو وکیل بنا دیا، یعنی دونوں کی طرف سے ایک ہی شخص وکیل بن گیا۔
وہ وکیل حیدرآباد میں تھا جبکہ لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھروں میں تھے، اب نکاح خواں کو وکیل بنانے کےدو ماہ بعد اس نے دو گواہوں کے موجودگی میں نکاح پڑھایا اور دونوں کی طرف سے وکیل نکاح پڑھانے والا تھا، ان دو مہینوں کے دوران لڑکے اور لڑکی کے درمیان جھگڑا بھی ہوا تھا اور لڑکی نے کہا تھا کہ میں اس نکاح کے لیے تیار نہیں ہوں ۔
اب جب دونوں کو دو ماہ کے بعد نکاح کی اطلاع دی تو دونوں نے آپس میں جماع کیا، اب چند دنوں کے بعد اس نکاح خواں نے ان کو اطلاع دی کہ آپ دونوں کا نکاح شرعاً درست نہیں ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں؟
اگر یہ نکاح درست نہیں ہے تو ان دونوں نے جو جماع کیا تو آیا یہ زنا کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟ اور اگر زنا کے زمرے میں آتا ہے تو آیا اب یہ دونوں آپس میں نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ ان میں گناہ گار نکاح پڑھانے والا ہے یا لڑکا اور لڑکی (نکاح خواں غیر مولوی تھے)؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمالیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوا، کیونکہ نکاح سے پہلے لڑکی کا واضح انکار کرنا شرعاً وکالت سے رجوع شمار ہوتا ہے، جس کے بعد (اگر نکاح خواں کو اس کا علم ہو چکا تھا) اس کی وکالت خود بخود ختم ہو گئی اور وہ لڑکی کی طرف سے نکاح کرنے کا مجاز نہ رہا۔ اس کے باوجود چونکہ لڑکا اور لڑکی اس غلط فہمی میں تھے کہ نکاح ہو چکا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے تعلّق قائم کیا ہے، اس لیے اسے وطی بالشّبہ (غلط فہمی کی بنا پر کیا گیا جماع) کہا جائے گا، جو اگرچہ گناہ ہے لیکن زنا نہیں، لہٰذا یہاں حد کا حکم جاری نہیں ہوگا، البتہ دونوں پر سچّی توبہ واستغفار لازم ہے۔
اس صورت میں لڑکی مہرِ مثل کی مستحق ہوگی اور اگر وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا چاہے تو اس پر تین حیض (اگر حمل نہ ہو ورنہ بچہ کی ولادت تک) عدت گزارنا لازم ہوگا، جبکہ اسی لڑکے سے نکاح کرنے کی صورت میں عدت لازم نہیں ہوگی۔
اس واقعہ کے بعد دونوں کے درمیان نکاح کی گنجائش باقی ہے، اس لیے اگر وہ ساتھ رہنا چاہیں تو دو عادل گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کر کے نئے سرے سے نکاح کریں، اور اولیاء کی اطلاع یا رضامندی کو بھی ملحوظ رکھیں تو بہترہے۔
اس پورے معاملے میں اصل ذمّہ داری اس شخص پر عائد ہوتی ہے جس نے بغیر تحقیق کے نکاح پڑھایا، البتہ لڑکا اور لڑکی بھی اگر حقیقت جانتے تھے تو قصوروار ہیں، ورنہ لاعلمی کی صورت میں ان پر حد تو نہیں لیکن توبہ بہرحال ضروری ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نکاح نہیں ہوا، علیحدگی اور توبہ لازم ہے، اور اگر ساتھ رہنا ہو تو شرعی طریقے سے نیا نکاح کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
البحر الرائق: (187/7، ط: دار الكتاب الإسلامي)
[باب عزل الوكيل]قد علم أنها من العقود الغير اللازمة ولهذا لا يدخلها خيار شرط ولا يصح الحكم بها مقصودا وإنما يصح الحكم بها ضمن الدعوى على الغريم كما في جامع الفصولين فكان للموكل العزل متى شاء بشرط علم الوكيل ولو كان وكيلا بالنكاح والطلاق لأنه وإن لم يلحقه الضرر يصير مكذبا شرعا فيكون غرورا ويثبت عزله بالمشافهة به أو بكتابته له كتابا بعزله أو بإرساله رسولا عدلا أو غير عدل حرا أو عبدا صغيرا أو كبيرا إذا قال له الموكل: أرسلني إليك لأبلغك عزله عن الوكالة فلو أشهد على العزل حال غيبة الوكيل لم ينعزل ولو أخبره فضولي فقد تقدم أنه لا بد عنده من أحد شطري الشهادة إما العدد أو العدالة ولها أخوات في مسائل شتى من كتاب القضاء وهي غير لازمة من الجانبين
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 96، دار الفكر-بيروت)
(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين الخ
تحفة الفقهاء: (3/ 139، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وقولنا عن شبهة العقد فإن وطء امرأة تزوجها بغير شهود أو أمة تزوجت بغير إذن مولاها أو عبد تزوج بغير إذن مولاه لا يكون زنا.
الاختيار لتعليل المختار: (4/ 90، مطبعة الحلبي)
وأما شبهة العقد بأن وطئ امرأة تزوجها بغير شهود أو أمة بغير إذن مولاها أو تزوج العبد بغير إذن مولاه، أو أمة على حرة لا حد عليه.
شرح النووي على مسلم: (17/ 59، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
واتفقوا على أن التوبة من جميع المعاصي واجبة وأنها واجبة على الفور لايجوز تأخيرها سواء كانت المعصية صغيرة أوكبيرة الخ
البحرالرائق: (كتاب النكاح، فصل في المحرمات،103/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
"أنه لا اعتبار لماء الزنى ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا."
الفتاوى الهندية: (1/ 280، ط: دار الفکر)
وفي مجموع النوازل إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل.
البناية شرح الهداية: (5/ 604، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
إذا دخل الرجل بالمرأة على وجه شبهة أو نكاح فاسد فعليه المهر وعليها العدة ثلاث حيض إن كانت حرة، وحيضتان إن كانت أمة، وسواء إن مات عنها أو فرق بينهما وهو حي، فإن كانت لا تحيض من صغر أو كبر فعدة الحرة ثلاثة أشهر، وعدة الأمة شهر ونصف.
فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 366)
في الأصل فيما إذا دخل الرجل على غير امرأته فدخل بها قال عليه مهر لها؛ لأنه دخل بها بشبهة النكاح؛ لأن خبر الواحد حجة في المعاملات فيصير شبهة تسقط الحد ويجب المهر. قال في الكتاب: وعليها العدة ويثبت نسب ولدها منه
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 133، ط: دار الفكر-بيروت)
سيأتي في باب العدة من أنها تجب بثلاث حيض كوامل في الموطوءة بشبهة أو نكاح فاسد في الموت والفرقة اه أي إن كانت تحيض وإلا فثلاثة أشهر أو وضع الحمل فافهم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 507، ط: دار الفكر-بيروت)
مطلب: حكاية أبي حنيفة في الموطوءة بشبهة [لطيفة]
حكى في المبسوط أن رجلا زوج ابنيه بنتين فأدخل النساء زوجة كل أخ على أخيه، فأجاب العلماء بأن كل واحد يجتنب التي أصابها وتعتد لتعود إلى زوجها. وأجاب أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - بأنه إذا رضي كل واحد بموطوءته يطلق كل واحد زوجته ويعقد على موطوءته ويدخل عليها للحال لأنه صاحب العدة ففعلا كذلك ورجع العلماء إلى جوابه (قوله: في الموت) إنما تجب عدة الوفاة لأنها إنما تجب لإظهار الحزن على زوج عاشرها إلى الموت ولا زوجية هنا بحر (قوله: يتعلق بالصورتين معا) أي إن قوله في الموت والفرقة مرتبط بصورتي الموطوءة بشبهة، أو بنكاح فاسد.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی