resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لا علمی میں پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنے کا حکم

(41944-No)

سوال: میں نے 2021 میں اپنی بیوی کے بھائی کی بیٹی سے نکاح کیا تھا، اس وقت میری عمر 27 سال تھی اور اس لڑکی کی عمر 21 سال تھی۔ نہ وہ جانتی تھی اور نہ میں جانتا تھا کہ یہ نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے ہم نے نکاح کر لیا، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
میں اپنی دونوں بیویوں کو رکھنا چاہتا ہوں اور کسی کو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ میں اس وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ براہِ کرم میری مدد کریں، میں نے یہ نکاح نادانستہ طور پر کیا تھا اور اب میں نہیں چاہتا کہ اس لڑکی کی زندگی برباد ہو جائے۔ اس مسئلے کے بارے میں مجھے کوئی فتویٰ دے دیں۔

جواب: پھوپھی اور بھتیجی کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا حدیث اور اجماعِ امّت کی رو سے حرام ہے۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اس بات سے منع فرمایا: کہ "پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے ... الخ"(بخاری، حدیث نمبر: 5108) لہٰذا اگر کوئی شخص پھوپھی سے نکاح کرنے کے بعد اس کی بھتیجی سے نکاح کرے تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کا دوسرا نکاح سرے سے منعقد نہیں ہوا تھا اور وہ لڑکی آپ کے لیے شرعاً حلال نہیں تھی، اس بنا پر اس لڑکی سے علیحدگی اختیار کرنا آپ پر لازم ہے۔ نیز اس مدت تک ساتھ رہنے کی وجہ سے آپ دونوں پر توبہ و استغفار کرنا بھی ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

التفسير المظهري: (62/2، ط: مكتبة الرشدية)
والتحقت به بالسنة والإجماع ‌حرمة ‌الجمع بين امراة وعمتها وامراة وخالتها ...الخ

صحيح البخاري: (باب: لا تنكح المرأة على عمتها، رقم الحدیث: 5108، 5109، ط: البشری)
عن الشعبي سمع جابرا رضي الله عنه قال: « نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تنكح المرأة على عمتها أو خالتها»
عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها.»

بدائع الصںائع: (262/2، ط: دار الکتب العلمیة)
واختلف في الجمع بين ذواتي رحم محرم سوى هذين الجمعين بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لا يجوز له نكاح الأخرى من الجانبين جميعا أيتهما كانت غير عين كالجمع بين امرأة وعمتها، والجمع بين امرأة وخالتها ونحو ذلك.
قال عامة العلماء: لا يجوز ... ولنا الحديث المشهور، وهو ما روي عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتها ولا على ابنة أخيها ولا على ابنة أختها» ، وزاد في بعض الروايات " لا الصغرى على الكبرى ولا الكبرى على الصغرى " الحديث أخبر أن ‌من ‌تزوج ‌عمة ثم بنت أخيها أو خالة ثم بنت أختها لا يجوز ... الخ

موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة:(15/ 391، ط: دار التقوى، القاهرة)
أجمع من يعتد به من أهل العلم على أنه لا يجوز للرجل أن يجمع بين المرأة وعمتها ولا بين المرأة وخالتها من نسب أو رضاع؛ لحديث أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تنكح المرأة على عمتها أو خالتها».

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah