سوال:
السلام علیکم، حق مہر کے متعلق ایک سوال ہے۔ اگر نکاح نامہ میں حق مہر ایک لاکھ غیر مؤجل درج ہو اور لڑکا بغیر لڑکی کے مطالبے کے اپنی طرف سے سونے کی صورت میں حق مہر ادا کر دے، نیز دیتے وقت واضح طور پر بتا بھی دے کہ یہ حق مہر ہے، لیکن طلاق کے وقت لڑکی اس بات سے انکار کر دے اور کہے کہ وہ تو تحفہ تھا، مجھے حق مہر نہیں ملا تو ایسی صورت میں کیا لڑکے پر طلاق کے بعد حق مہر دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگا؟
جواب:
واضح رہے کہ اگر لڑکے والوں میں رقم کی صورت میں مہر مقرر کرنے کے بعد سونا بطورِ مہر دینے کا عرف (رواج) ہو اور شوہر نے سونا دیتے وقت صراحت بھی کردی ہو کہ یہ سونا مہر کے طور پر دیا جا رہا ہے تو ایسی صورت میں شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر مانا جائے گا، البتہ عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ سونا واپس کرکے اپنے مقررہ مہر کی رقم کا مطالبہ کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 151)*
(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا *(فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده - وترجع بباقي المهر* ذكره ابن الكمال.
قوله وترجع بباقي المهر) أو كله إن لم يكن دفع لها شيئا منه
*احسن الفتاوٰی: (29/5، ایچ ایم سعد)*
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی