سوال:
اگر کسی عورت کو نکاح سے پہلے حمل ٹھہر جائے اور ایک ہفتے بعد وہ خاندان بنانے کے ارادے سے نکاح کر لیں تو کیا اسلام کے مطابق بچہ حلال شمار ہوگا؟"
جواب: نکاح سے پہلے منگیتر کے ساتھ جنسی تعلّقات قائم کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لیے سب سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے ضروری ہے کہ اس گناہ پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
اس ناجائز تعلق سے اگر لڑکی کو حمل ٹھہر جائے اور حمل ٹھہرنے کے بعد لڑکی اس لڑکے سے شادی کرلے تو اس صورت میں اگر بچہ کی پیدائش نکاح کے کم از کم چھ ماہ بعد ہوئی ہو تو بچہ کا نسب اس لڑکی کے شوہر سے ثابت ہوگا اور اگر بچے کی پیدائش چھ ماہ سے پہلے ہو تو اس صورت میں بچے کا نسب مذکورہ شوہر سے ثابت نہیں ہوگا، البتہ چھ ماہ سے پہلے ولادت کی صورت میں اگر شوہر بچے کے والد ہونے کا دعویٰ کردے اور اس دعویٰ میں زنا کا تذکرہ نہ کرے تو بھی بچے کا نسب اس سے ثابت ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھندیۃ: (540/1، ط: دارالافکر)*
ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لم يثبت نسبه إلا أن يدعيه ولم يقل: إنه من الزنا أما إن قال: إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه كذا في الينابيع۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی