سوال:
میں آپ سے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں۔ اگر کوئی سوتیلا باپ اپنی بیوی کی بیٹی کو شہوت کے ساتھ اس کی شرم گاہ یا اس کے آس پاس کے کسی حصے کو ہاتھ لگائے تو کیا اس عمل کی وجہ سے میاں بیوی کا نکاح حرام ہو جاتا ہے؟ اور اگر اس واقعے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد میاں بیوی نے تجدیدِ نکاح کر لیا ہو تو کیا یہ تجدیدِ نکاح شرعاً درست اور جائز ہوگی؟ براہِ کرم اس مسئلے کی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ سوتیلی بیٹی کو شہوت کے ساتھ چھونے سے چند شرائط کے ساتھ حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
1) چھونا شہوت کے ساتھ ہو، شہوت چاہے دونوں جانب سے ہو یا ایک جانب سے۔ اگر شہوت پہلے سے موجود ہو تو چھونے کے بعد شہوت میں اضافہ ہوجائے۔
2) مذكوره لڑکی وہ اس واقعہ کے وقت مشتہاۃ (قابلِ شہوت) یعنی کم از کم نو سال کی ہو۔
3) چھونے کا عمل بلاحائل ہو یا اگر کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہو تو وہ اتنا باریک ہو کہ حرارت پہنچنے سے مانع نہ ہو۔
4) چھونے سے انزال نہ ہوا ہو، اگر انزال ہوجائے تو مذکورہ حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ واقعہ میں اگر مذکورہ شرائط پائی گئی ہیں تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے بیوی مذکورہ شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی ہے، تجدید نکاح سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور ابھی تک ساتھ رہنے کی وجہ سے توبہ و استغفار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المحيط البرهاني: (63/3، ط: دار الكتب العلمية)
... وكما ثبتت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمسّ والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاه، ولا تثبت هذه الحرمة بالنظر إلى سائر الأعضاء وإن كان عن شهوة وحد، والشهوة: أن تنتشر آلته إليه بالنظر إلى الفرج أو المس إذا لم يكن منتشراً قبل هذا، وإذا كان منتشراً فإن كان يزداد قوة و..... بالنظر والمسّ كان ذلك عن شهوة وما (لا) فلا، وهذا إذا كان شاباً قادراً على الجماع، وإن كان شيخاً أو عنيناً فحدُّ الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركاً قبل ذلك، ويزداد الاشتهاء إن كان متحركاً فهذا هو حدّ الشهوة التي حكاها.... عن أصحابنا رحمهم الله، وإليه مال شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده وشمس الأئمة السرخسي رحمهما الله.
وكثير من المشايخ لم يشترطوا الانتشار، وجعلوا حدّ الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها. وكان الفقيه محمد بن مقاتل الرازي رحمه الله لا يعتبر تحرك القلب، وإنما يعتبر تحرك الآلة، وكان لا يفتي بثبوت الحرمة في الشيخ الكبير العنين والذي ماتت شهوته حتى لم يتحرك عضوه بالملامسة.
وروى ابن رستم عن محمد رحمه الله: أنه إذا لمسها بشهوة فلم ينتشر عضوه أو كان منتشراً فلم يزدد انتشاره حتى تركها ثم ازداد انتشاره بعد لم تثبت به الحرمة، وإنما تثبت الحرمة إذا انتشر بالمس وهو بعدُ لامسها، أو يزداد انتشاره وهو لامسها بعد.
جئنا إلى حدّ المشتهاة: حكي عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل رحمه الله: أنها إذا كانت بنت تسع سنين أو أكثر فهي مشتهاة من غير تفصيل، وإذا كانت بنت خمس سنين أو دونه لم تكن مشتهاة. وإن كانت بنت سبع سنين أو بنت ست سنين أو بنت ثماني ينظر إن كانت عبدة ضخمة كانت مشتهاة وما لا فلا.
قال الفقيه أبو الليث رحمه الله في «أيمان الفتاوى» : المشايخ سكتوا في الثمان والتسع *والغالب أنها لا تشتهى ما لم تبلغ تسع سنين.*
امداد الأحكام: (793/2 تا 811، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی