resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اسلام میں حق مہر کے عوض شوہر کے حقوق

(41950-No)

سوال: اسلام میں عورت کو حقِ مہر کے ذریعے تحفظ دیا جاتا ہے، تو شوہر کے لیے کیا تحفظ ہے؟ مثلاً اگر بیوی شوہر کی بدنامی کرے، رکاوٹیں پیدا کرے، اس کے کیریئر کو نقصان پہنچائے اور اس کی زندگی خراب کر دے، تو اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ بیوی کا حق مہر اس کے تحفّظ کے لیے بھی ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ حق مہر اس کے اُن جسمانی اور معاشرتی حقوق کے عوض میں ہے جو بیوی پر شوہر کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ جبکہ شوہر کو اس کے عوض سربراہی اور کئی حقوق اضافی دئیے گئے ہیں، جس کے اندر اسے "فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ" [البقرة: 229] کا حکم دیا گیا ہے، کہ عرف کے مطابق اچھے انداز میں اسے اپنے پاس رکھو۔ بصورتِ دیگر اگر اسے معقول وجوہات کے پیشِ نظر اچھے انداز میں ساتھ رکھنا مشکل ہو تو خوش اسلوبی سے چھوڑ دے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً بیوی نے شوہر کو بدنام کروایا ہو، اور اسے غیر معمولی نقصان پہنچایا ہو تو شوہر کو چاہیے اسے اللہ کے لیے معاف کر کے اچھے انداز میں اپنے ساتھ رکھے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو خوش اسلوبی سے طلاق دے کر علیحدہ کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الكريم: (النساء، الآية: ٣٤)*
﴿ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ●﴾

*القرآن الكريم: (النساء، الآية: ٤)*
﴿ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةۚ... ﴾

*الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 198، ط: دار احياء التراث العربي)*
«باب المهر: "ويصح النكاح وإن لم يسم فيه مهرا " لأن النكاح عقد انضمام وازدواج لغة فيتم بالزوجين ثم المهر واجب شرعا إبانة لشرف المحل فلا يحتاج إلى ذكره لصحة النكاح وكذا إذا تزوجها بشرط أن لا مهر لها لما بينا ۔۔۔ " وأقل المهر عشرة دراهم " ۔۔۔ ولنا قوله عليه الصلاة والسلام»" ولا مهر أقل من عشرة " ولأنه حق الشرع وجوبا إظهارا لشرف المحل فيتقدر بماله خطر وهو العشرة استدلالا بنصاب السرقة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah