سوال:
السلام علیکم مفتی صاحب! کیا بیوی کی سگی خالہ کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنے سے بیوی کے ساتھ نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ زنا ایک کبیرہ گناہ ہے، قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مذکورہ شخص کو چاہیے کہ اس گناہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور سچّی توبہ کرتے ہوئے آئندہ اس گناہ سے بچے۔
جہاں تک حرمتِ مصاہرت کا سوال ہے تو بیوی کی خالہ کے ساتھ ناجائز تعلّق یعنی جماع کرنے سے زانی پر اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے حرام تو نہیں ہوتی، البتہ بیوی کی خالہ سے زنا کرنی کی صورت میں جب تک خالہ کو ایک حیض نہ آجائے یا حمل ہو جانے کی صورت میں جب تک اس کا وضع حمل نہ ہو جائے، اس وقت تک زانی کے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: ( سورۃ الاسراء، رقم الآیۃ: 32)*
وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا O
*رد المحتار: (380/6، ط: ایچ ایم سعید)*
ﺇﺫا ﺯﻧﻰ ﺑﺄﺧﺖ اﻣﺮﺃﺗﻪ ﺃﻭ ﺑﻌﻤﺘﻬﺎ ﺃﻭ ﺑﺨﺎﻟﺘﻬﺎ ﺃﻭ ﺑﻨﺖ ﺃﺧﻴﻬﺎ ﺃﻭ ﺃﺧﺘﻬﺎ ﺑﻼ ﺷﺒﻬﺔ ﻓﺈﻥ اﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻄﺄ اﻣﺮﺃﺗﻪ ﺣﺘﻰ ﺗﺴﺘﺒﺮﺃ اﻟﻤﺰﻧﻴﺔ.
*و فیه ایضاً: (34/3، ط: ایچ ایم سعید)*
(قوله: وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لاتحرم عليه امرأته) هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لايحرم أي لاتثبت حرمة المصاهرة، *فالمعنى: لاتحرم حرمة مؤبدة، وإلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة*، قال في البحر: لو وطئ أخت امرأة بشبهة تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة، وفي الدراية عن الكامل: لو زنى بإحدى الأختين لايقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضةً."
*النتف في الفتاویٰ:(کتاب النکاح294/1،ط: مؤسسة الرسالة)*
ﻭاﻟﺨﺎﻣﺲ ﻋﺸﺮ اﺫا ﻭﻃﺄ ﺫاﺕ ﻣﺤﺮﻡ ﻣﻦ اﻣﺮﺃﺗﻪ ﻣﻤﻦ ﻻ ﻳﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻪ ﺑﺰﻧﺎ ﻓﺎﻧﻪ ﻻ ﻳﻄﺄ اﻣﺮﺃﺗﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﺴﺘﺒﺮﺉ اﻟﻤﻮﻃﻮءﺓ ﺑﺤﻴﻀﺔ ﻻﻧﻪ ﻻ ﻳﺤﻞ ﻟﻪ ﺭﺣﻤﺎﻥ ﻣﺤﺮﻣﺎﻥ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻣﺎﺅﻩ.
*کذا فی امداد المفتين: (فصل في الجمع بين الأختين، 559/8،ط: ادارۃ المعارف کراچی)*
*کذا فی حاشیہ فتاوی عثمانی: (فصل في احكام المصاهرة، 253/2، ط: معارف القرآن کراچی)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی