سوال:
میرے بچوں کے باپ نے میری بیٹیوں پر بری نظر ڈالی اور ان کو غلط طرح سے ٹچ کیا ، آخری مرتبہ انہوں نے میری بیٹی کو دسو ویں کلاس میں ٹچ کیا اور بعد میں قرآن کی قسم کھائی کہ ایسا نہیں ہو گا لیکن پِھر انہوں نے چھوٹی کو بھی ٹچ کرنے کی کوشش کی ، اب مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا میرا نکاح ٹوٹ گیا ہے ؟
ہم سب میرےشوہر پر ڈیپینڈنٹ (Dependent) ہیں، براہ مہربانی ہماری مدد کریں نکاح بچانے کے لیے کوئی تو راستہ ہو گا ، ہماری حالت بہت شدید ہے ، ہم ان کے بغیر گزارا نہیں کر پائیں گے ، میرے بچوں کی ابھی پڑھائی چل رہی ہیں، ابھی اِس قابل نہیں ہوئے کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں ۔ انہوں نے بس چیسٹ پر ٹچ کیا ہے، کوئی شدید نوعیت (Severity) کا معاملہ نہیں ہوا تھا، پلیز آپ ہماری مدد کریں۔
جواب: واضح رہے کہ اپنی ہی بیٹیوں پر بری نظر ڈالنا اور انہیں غلط نیت سے چھونا انتہائی قبیح، سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ ایسا شخص شدید گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، اس پر لازم ہے کہ فوراً سچّے دل سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی حرکات سے مکمل اجتناب کرے۔
جہاں تک نکاح کے باقی رہنے یا ختم ہونے کا تعلّق ہے تو فقہِ حنفی کے مطابق بیٹی کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمتِ مصاہرت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب چند مخصوص شرائط پائی جائیں، مثلاً:
1) جس بچی کو چھوا گیا ہے وہ قابلِ شہوت ہو، یعنی اس کی عمر کم از کم نو (9) سال یا اس سے زیادہ ہو۔
2) لڑکی کو چھوتے وقت ہی شہوت پیدا ہوئی ہو، چھونے کے بعد میں شہوت پیدا ہونے کا اعتبار نہیں۔
3) شہوت پیدا ہونے کی کوئی معتبر علامت پائی جائے (مثلاً: دل کی دھڑکن کا شدید بڑھنا یا انتشار ہونا)، اور اگر پہلے سے ہی شہوت موجود ہو تو چھوتے وقت اس میں مزید اضافہ ہوا ہو۔
4) شہوت کے ساتھ چھونا اس طور پر ہو کہ درمیان میں کوئی کپڑا حائل نہ ہو یا اگر کپڑا موجود ہو تو وہ اتنا باریک ہو جس سے جسم کی حرارت محسوس ہو رہی ہو۔ اگر کپڑا موٹا تھا جس سے جسم کی گرمی محسوس نہیں ہوئی تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
5) جس وقت شہوت سے چھوا، اسی وقت انزال (Discharge) نہ ہوا ہو؛ اگر چھوتے ہی انزال ہو گیا تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر دسویں جماعت والی بیٹی یا اس کے علاوہ کوئی بھی بالغ یا قابلِ شہوت بیٹی کواگر اس طرح شہوت کے ساتھ چھوا گیا تھا کہ مذکورہ تمام شرائط موجود تھیں تو فقہِ حنفی کے مطابق حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے، اور اس کی وجہ سے بیوی شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے، اور آپ دونوں کے درمیان نکاح برقرار نہیں رہا۔
اور اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط مفقود تھی تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور نکاح بدستور قائم ہے۔
چونکہ یہ معاملہ نہایت حسّاس، سنگین اور خاندان کے مستقبل سے متعلق ہے، اس لیے محض اندیشوں یا ایک طرفہ اندازے کی بنیاد پر حتمی فیصلہ نہ کیا جائے، بلکہ چھوتے وقت خاوند کی پوری کیفیت پوچھ کر وہ پوری تفصیلات تحریرمیں لا کرپھر تحریری فتویٰ حاصل کیا جائے، تاکہ شوہر کی کیفیت، نیت اور واقعہ کی نوعیت سامنے رکھ کر صحیح شرعی حکم متعین کیا جا سکے۔ جب تک معاملے کا حتمی شرعی فیصلہ نہ ہو جائے، بچیوں کے تحفّظ کے لیے درج ذیل احتیاطی اقدامات ضروری ہیں:
الف) بچیوں کو والد کے ساتھ تنہائی میں نہ چھوڑا جائے۔
ب) سونے کا انتظام الگ رکھا جائے۔
ج) شوہر کو سختی سے منع کیا جائے اور وارننگ دی جائے کہ اگر انہوں نے دوبارہ چھوٹی یا بڑی بیٹی کی طرف بری نظر اٹھائی تو قانونی کارروائی یا خاندان کے بڑوں کوبتایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 224، ط: دار الفكر)*
عن ابن عمر قال: إذا جامع الرجل المرأة أو قبلها أو لمسهابشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة حرمت على أبيه وابنه وحرمت عليه أمها وابنتها. وعن مسروق أنه قال: بيعوا جاريتي هذه، أما إني لم أصب منها إلا ما يحرمها على ولدي من المس والقبلة۔
*مصنف ابن أبي شيبة: (3/ 481، رقم الحدیث: 16237)*
عن عطاء رحمہ الله قال اذا اتی الرجل المرأۃ حراما، حرمت علیہ ابنتھا وان اتی ابنتھا حرمت علیہ امھا.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 32، ط: دار الفكر-بيروت)*
(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة..... ذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي
الد *ر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (3/ 35، ط: دار الفكر-بيروت)*
فلو أيقظ زوجته أو أيقظته هي لجماعها فمست يده بنتها المشتهاة أو يدها ابنه حرمت الأم أبدا فتح.
*الفتاوى الهندية (1/ 275، ط: دار الفكر)*
ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت.
*مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (1/ 327 ، ط:دار إحياء التراث العربي)*
وما ذكر في حد الشهوة من أن الصحيح أن تنتشر الآلة، أو تزداد انتشارا كما في الهداية وغيرها.وفي الخلاصة وبه يفتى فكان هو المذهب وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل إليها بالقلب ويشتهي أن يعانقها.وفي الغاية وعليه الاعتماد وفائدة الاختلاف تظهر في الشيخ والعنين والذي ماتت شهوته فعلى الأول لا يثبت وعلى الثاني تثبت كما في الذخيرة هذا في حق الرجال وأما في حق النساء فالاشتهاء بالقلب (من أحد الجانبين) ، وفي المضمرات أن شهوة أحدهما كافية إذا كان الآخر محل الشهوة فلا يشترط أن يكونا بالغين.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی