عنوان: بالوں کو مختلف رنگوں سے رنگنے کا شرعی حکم(107735-No)

سوال: ایسے مرد اور عورتیں جن کے بال سیاہ ہیں سفید نہیں ہوئے، کیا وہ اپنے بالوں کو کسی اور رنگ سے رنگ سکتے ہیں؟ اس کے لئے عموما دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں: 1) کالے بالوں کو بلیچ لگا کر ان کا قدرتی کالا رنگ ختم کر دیا جاتا ہے تو وہ بال سفید ہو جاتے ہیں، پھر ان کو جس رنگ میں چاہیں رنگ دیں۔ اس طرح سے رنگے ہوئے بال تقریبا سال سوا سال تک نئے رنگ سے رنگے رہتے ہیں، نئے بال جڑ کی جانب سے بڑھتے ہیں تو آہستہ آہستہ سوا سال کے بعد رنگا ہوا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔ 2) کالے بالوں کو بغیر سفید کیے ڈائریکٹ دوسرے رنگ میں رنگا جاتا ہے، اس طریقہ سے رنگ ایک سے ڈیڑھ ماہ تک برقرار رہتا ہے، پھر بال دوبارہ کالے ہو جاتے ہیں۔ کیا مذکورہ دونوں طریقے شریعت کی نگاہ میں درست ہیں یا نہیں؟ نیز فتوی سیاہ بالوں پر رنگ کرنے کے بارے میں مطلوب ہے۔

جواب: بالوں کو کالے رنگ سے رنگنا مکروہِ تحریمی ہے، اور کالے رنگ کے علاوہ دوسرے رنگوں سے رنگنا جائز ہے، بشرطیکہ اس ميں كفار يا فاسق لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی سنن ابی داؤد :

ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻗﺎﻝ: ﻣﺮ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺟﻞ ﻗﺪ ﺧﻀﺐ ﺑﺎﻟﺤﻨﺎء، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻣﺎ ﺃﺣﺴﻦ ﻫﺬا» ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺮ ﺁﺧﺮ ﻗﺪ ﺧﻀﺐ ﺑﺎﻟﺤﻨﺎء ﻭاﻟﻜﺘﻢ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻫﺬا ﺃﺣﺴﻦ ﻣﻦ ﻫﺬا»، ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺮ ﺁﺧﺮ ﻗﺪ ﺧﻀﺐ ﺑﺎﻟﺼﻔﺮﺓ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻫﺬا ﺃﺣﺴﻦ ﻣﻦ ﻫﺬا ﻛﻠﻪ۔

( باب ما جاء في خضاب السواد، رقم الحدیث : 4211)

وفیہ ایضا :

عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یکون قوم یخضبون في آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام، لا یریحون رائحۃ الجنۃ۔

(باب ما جاء في خضاب السواد، رقم الحدیث: 4212)

وفیہ ایضا :

ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻣﻦ ﺗﺸﺒﻪ ﺑﻘﻮﻡ ﻓﻬﻮ ﻣﻨﻬﻢ۔

(سنن أبي داؤد: حدیث نمبر: 4031)

کذا فی رد المحتار :

ﻭﻣﺬﻫﺒﻨﺎ اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺧﻀﺎﺏ اﻟﺸﻴﺐ ﻟﻠﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﺑﺼﻔﺮﺓ ﺃﻭ ﺣﻤﺮﺓ ﻭﺗﺤﺮﻳﻢ خضابہ ﺑﺎﻟﺴﻮاﺩ ﻋﻠﻰ اﻷﺻﺢ ﻟﻘﻮﻟﻪ - ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﺴﻼﻡ - «ﻏﻴﺮﻭا ﻫﺬا اﻟﺸﻴﺐ ﻭاﺟﺘﻨﺒﻮا اﻟﺴﻮاﺩ»

(ج: 6،ص: 756، ط: دارالفکر، بیروت۔)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 361
baalon ko mukhtalif rangonmai rangnay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.