عنوان: رقم دینے کے بعد اس رقم میں زکوۃ کی نیت کرنا(107764-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! میرا سوال یہ ہے کہ کسی مستحق کو پیسے دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کی جا سکتی ہے؟ جس وقت پیسے دے رہے تھے، اس وقت نیت نہیں تھی۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے رقم مستحق کو دیتے وقت یا رقم علیحدہ رکھتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر مستحق شخص کو رقم زکوۃ کی نیت کے بغیر دی تھی، اور وہ رقم ابھی مستحق کے پاس موجود ہو، اور اس نے وہ رقم خرچ نہ کی ہو، ایسی صورت میں اگر رقم دینے والا شخص ان پیسوں میں زکوۃ کی نیت کرلے، تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، اور اگر زکوۃ کی نیت کرنے سے پہلے ہی مستحق نے وہ رقم خرچ کردی، تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر المختار:

(وشرط صحۃ أدائہا مقارنۃ لہ) أي للأداء ولو کانت المقارنۃ (حکمًا) کما لو دفع بلانیۃ ثم نوی والمال قائم في ید الفقیر۔

(ج:3، ص:187، ط:زکریا)


کذا فی الفتاوى الهندية:

’’و إذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، و إلا فلا، كذا في معراج الدراية و الزاهدي و البحر الرائق و العيني و شرح الهداية.‘‘

(ج:1، ص:171، ط: دار الفكر)

کذا فی الفتاویٰ التارخانیۃ:

إذا دفع المزکي المال إلی الفقیر ولم ینو شیئًا، ثم حضرتہ النیۃ عن الزکاۃ ینظر إن کان المال قائمًا في ید الفقیر صار عن الزکاۃ وإن تلف لا۔

(ج:3، ص:197، ط:زکریا)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 37

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com