resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قسطوں پر چیزیں خریدنا

(778-No)

سوال: قسطوں پر گاڑی، اسکوٹر اور موبائل وغیرہ خریدنے کے بارے میں تفصیل سے بتادیں۔

جواب: قسطوں پر گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ گاڑی یا موٹر سائیکل  کی کل قیمت اور مدت ادائیگی طے ہو، اور قسط میں تاخیر ہونے کی صورت میں جرمانہ وصول نہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المبسوط للسرخسی: (13/8، ط: دار المعرفة)
"وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد،وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا، حتی قاطَعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز".

المجلة: (رقم المادۃ: 225)
" البیعُ مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح".

بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: (12/1، ط: دار العلوم کراتشي)
" أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد".

الاشباہ و النظائر: (226/1، ط: دار الکتب العلمیة)
کل قرض جر نفعا حرام.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Qiston(kiston) per cheezain khareedna, Buying comodities on installments

اسلامی شریعت میں قسطوں پر چیزیں خریدنا جائز ہے بشرطِیکہ سود (ربا) یا کسی غیر شرعی فیس کا شامل نہ ہو۔ خرید و فروخت اور لین دین میں بنیادی اصول یہی ہے کہ صاف و شفاف معاہدہ ہو، سودی عناصر شامل نہ ہوں، اور دونوں فریق کے حقوق محفوظ رہیں۔ اگر قسطوں پر خریداری میں صرف اصل قیمت تقسیم کی جائے تو یہ مسئلہ شرعاً قابلِ قبول ہے۔ تاہم اکثر قسطی سودا میں بیع کی قیمت میں غیر ضروری اضافی رقم یا سود شامل ہوتا ہے، جو شرعاً منع ہے۔ اسی لیے اہلِ علم کا مؤقف ہے کہ ہر سودا کو بیعِ معین کی حیثیت سے دیکھا جائے: اصل چیز، اصل قیمت اور فریقین کی رضا۔ قسطوں پر اشیا خریدنے سے پہلے بیع کا عقد، سود کی موجودگی، اور معاہدے کی شفافیت کا جائزہ ضروری ہے، تاکہ مسلمان اپنے مال کو حرام عناصر سے بچا کر رکھ سکے۔

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial