عنوان: مونچھیں رکھنے کا حکم (107799-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کوئی شخص مونچھیں رکھنا چاہیے تو اس کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ اگر جائز ہے کتنی بڑی رکھ سکتے ہیں اور کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ مونچھیں رکھنا جائز ہے، البتہ مونچھیں اتنی بڑھا کر رکھنا کہ وہ اوپر کے ہونٹ کی لکیر سے تجاوز کرجائیں، اور اتنی بڑی ہو جائیں کہ کھانے پینے کی اشیاء میں لگیں، شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اس سے کھانے پینے کی اشیاء حرام یا مکروہ نہیں ہوں گی۔

مونچھوں کے سلسلے میں درج ذیل احتیاط کرنی چاہئیں:

(1) بہتر یہ ہے کہ مونچھیں قینچی وغیرہ سے کاٹی جائیں، استرہ اور بلیڈ سے صاف کرنا بھی جائز ہے، البتہ خلافِ اولیٰ ہے۔

(2) چالیس دن سے زیادہ مونچھوں کو نہ چھوڑا جائے۔
حدیث میں ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مونچھیں ترشوانے اور ناخن لینے اور بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے سلسلہ میں ہمارے واسطے حد مقرر کر دی گئی ہے کہ چالیس روز سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔

(صحیح مسلم، حدیث نمبر : 599)

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی الصحیح البخاری:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى»".

(ج:2، ص:875، کتاب اللباس، باب إعفاء اللحی، رقم: 5893، ط: دار الفکر بیروت)

وایضا:

عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: خالفوا المشرکین ووفروا اللحی، وأحفوا الشوارب، وکان ابن عمر إذا حجَّ أو اعتمر قبض علی لحیتہ، فما فضل أخذہ۔

(ج:2 ، ص:875، کتاب اللباس، باب تقلیم الأظفار، رقم: 5892)

کذا فی الصحیح المسلم:

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ، قَالَ: يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: - قَالَ أَنَسٌ - «وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.

(رقم الحدیث: 599)

لما فی مرقاۃ المفاتیح:

قال الملا علي القاري: "قص الشارب: قال الحافظ ابن حجر:فیسن احفاوٴہ حتی تبدو حمرة الشفة العلیا".

(ج:2، ص:91، کتاب الطہارة، باب السواک، الفصل الأول، رقم الحدیث: 379)

وفی العرف الشذی:

"وأما الحد من الطرفین فلم تثبت،وتوخذ بقدر مالا توذی عند الأکل والشرب،ولعل عمل السلف أنہم کانوایقصرون السبالتین أیضاً،فان فی تذکرة الفاروق الأعظم ذکر أنہ کان یترک السبالتین واہتمام ذکر ترکہ السبالتین یدل علی أن غیرہ لا یترکہما".

(ج:2، ص:105)

وفی رد المحتار:

"واختلف في المسنون في الشارب ہل ہو القص أو الحلق؟ والمذہب عند بعض المتأخرین من مشائخنا أنہ القص۔ قال في البدائع: وہو الصحیح۔۔۔۔وقال في الفتح: وتفسیر القص أن ینتقص عن الاطار، وہو بکسر الہمزة: ملتقی الجلدة واللحم من الشفة".

(ج:2، ص:550، کتاب الحج، باب الجنایات في الحج، ط: دار الفکر، بیروت )

وفی الشامیۃ:

الثالث: قص الشارب: وهو الشعر النابت فوق الشفة العليا وحده: الشفة كل ما طال على الشفة العليا فهو شارب".

(ج:ص:550 ط:سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 205
moonchain/ mustache rakhnay ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.