عنوان: اسٹیٹ لائف انشورنس سے میرج پالیسی(Marriage policy) لینے کا حکم(107831-No)

سوال: مفتی صاحب !بیٹیوں کی شادی کے لیے میرج پالیسی لینا چاہتا ہوں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مجھے بیس سال تک ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کروانے ہیں، بیس سال بعد مجھے آٹھ لاکھ روپے ملیں گے۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ بیٹیوں کی شادی کے لیے میرج انشورنس پالیسی لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ انشورنس کے ذریعے انسان مستقبل میں پیش آنے والے امکانی خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات کی تلافی کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مروجہ انشورنس میں کسٹمر ایک معینہ مدت تک ایک مقررہ رقم قسط وار انشورنس کمپنی کو ادا کرتا ہے، انشورنس کمپنی اس کو جمع شدہ رقم سے زائد رقم ادا کرتی ہے، یہ زائد رقم سود ہے، اور اگر اس مقررہ مدت میں کوئی خطرہ پیش نہ آیا، تو جمع شدہ رقم واپس نہیں ملتی، انشورنس کمپنی اس رقم کی مالک بن جاتی ہے، اور یہ رقم شرعی طور پر (قمار) جوئے میں شمار ہوتی ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مروجہ انشورنس کمپنی کی بنیاد صرف سودی معاملات پر نہیں، بلکہ غرر (دھوکہ) اور قمار(جوا) پر بھی ہے، چونکہ سود اور قمار (جوا) شریعت میں حرام ہے، لہذا مروجہ انشورنس سود، دھوکہ اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے٬ لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

البتہ علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق انشورنس کے متبادل "تکافل" کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا اگر کمپنی میں تکافل کا نظام ہو اور وہ کمپنی مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہو٬ تو ضرورت کے وقت ایسی کمپنی سے تکافل کی پالیسی لینے کی گنجائش ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قال اللہ تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔

(سورۃ بقرہ: ۲۷۸ – ۲۷۹)

وایضاً قال:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

(سورۃ مآئدۃ، الایہ۹۰)

لما فی الصحیح لمسلم:

عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء.

(ج2، ص227)

کذا فی عمدۃ القاری:

الغرر ھو فی الاصل الخطر، و الخطر ھو الذی لا یدری أ یکون ام لا، و قال ان عرفۃ: الغرر ھو ما کان ظاھرہ یغر و باطنہ مجہول، قال و الغرور ما راأیت لہ ظاہرا تحبہ و باطنہ مکروہ أو مجہول، و قال الأزہری: البیع الغرر ما یکون علی غیر عھدۃ و لا ثقۃ، و قال صاحب المشارق: بیع الغرر بیع المخاطرۃ، و ھو الجہل بالثمن أو المثمن أو سلامتہ أو أجلہ۔

(ج۸، ص ۴۳۵)

کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:

عن ابن سیرین قال: کل شيءٍ فیه قمار فهو من المیسر".

(ج4، ص483، کتاب البیوع والاقضیہ، ط؛ مکتبہ رشد، ریاض)

کذا فی الشامیہ:

(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".

(ج6، ص403، کتاب الحظر والاباحۃ، ط : سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 277
state life insurance say marriage policy lene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.