عنوان: کن اعضاء کے نہ دھونے سے وضو نہیں ہوتا؟(107843-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا وضو کے اعضاؤوں کو ایک دفعہ دھونے سے وضو ہوجاتا ہے اور وہ کون سے اعضاء ہیں، جن کے چھوٹ جانے سے وضو نہیں ہوتا ہے؟

جواب: وضو کے چار فرائض ہیں:

1۔چہرہ دھونا (پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک)۔

2۔دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔

3۔ سر کے چوتھائی حصہ کا مسح کرنا۔

4۔دونوں پیروں کا ٹخنوں سمیت دھونا۔

ان فرائض میں سے کسی بھی ایک فرض کے چھوٹ جانے سے وضو صحیح نہیں ہوتا، جبکہ چہرہ، ہاتھ اور پیر کے ایک ایک مرتبہ دھونے سے وضو صحیح ہوجاتا ہے، البتہ اس کو مستقل عادت نہیں بنانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تبارک وتعالیٰ:

أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ

(سورۃ المائدہ، رقم الآیۃ:6)

کما فی الحدیث النبوی:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: توضا النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرۃ مرۃ۔

(صحیح البخاری ج:1 ص:27 کتاب الوضو)

کذا فی الشامیۃ:

(وغسل اليدين) أسقط لفظ فرادى لعدم تقييد الفرض بالانفراد (والرجلين) الباديتين السليمتين، فإن المجروحتين والمستورتين بالخف وظيفتهما المسح (مرة) لما مر (مع المرفقين والكعبين) على المذهب.

(ج1، ص 98، ط: دارالفکر)

کذا فی الھندیۃ:

ومنها تكرار الغسل ثلاثا في مايفرض غسله نحو اليدين والوجه والرجلين۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو توضا مرۃ مرۃ لعزۃ الماء او للبرد او للحاجۃ لا یکرہ ولا یاثم والا فیاثم۔

(ج:1 ص:7 کتاب الطھارۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 217
kin aaza kay na dhonay say wozu nahi hota

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.