عنوان: اگر دو سال سے میاں بیوی میں صحبت نہیں ہوئی ہو، تو کیا عدت واجب ہوگی؟(107850-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ اگر دو سال سے میاں بیوی کے درمیان کوئی فزیکل تعلق نہیں ہو، تو کیا تب بھی خلع لینے پر عدت واجب ہوگی؟

جواب: جس عورت سے نکاح کے بعد صحبت یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو، اس عورت پر شرعاً طلاق یا خلع کے بعد عدت واجب ہوتی ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر زوجین میں نکاح کے بعد ایک مرتبہ صحبت یا خلوت صحیحہ یعنی تنہائی میں ملاقات ہوچکی ہے، تو عورت پر خلع کے بعد عدت لازم ہے، اگرچہ زوجین میں گزشتہ دو سال سے صحبت نہ ہوئی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

يقول الله تبارك وتعالى:

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

(سورة البقرة رقم الآیۃ:228).

کذا فی الدر المختار:

وہي فی حرّة تحیض لطلاق أو فسخ بعد الدخول حقیقة أو حکماً ثلاث حیض کوامل۔

(ج: 5، ص: 181، ط: مکتبہ زکریا )

کذا فی الدر المختار مع الرد المحتار:

والخلوۃ بلامانع حسي وطبعي وشرعي…… ولوکان الزوج مجبوبا أوعنینا أوخصیا في ثبوت النسب وفي تأکد المہر والنفقۃ والسکنی والعدۃ

(ج:4، ص:114/ 118، کتاب النکاح، باب المہر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 424

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com