عنوان: کسی مستند ادارے سے تصدیق شدہ دینی ادارے کو زکوۃ دینا(107851-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ہم زکوٰۃ کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں کہ بنوری ٹاؤن کراچی کی تصدیق چیک کر کے اس کے پیچھے اپنا دستخط کر دیتے ہیں، پھر کسی کو 500، کسی کو 1000 روپے دے دیتے ہیں، بنوری ٹاؤن اس طرح کی تصدیق مدرسہ کو دیکھ کرتا ہے کہ واقعی مدرسہ ہے یا نہیں؟ ہم اصل تصدیق چیک کرکے زکوٰۃ دے دیتے ہیں اور پوچھ بھی لیتے ہیں کہ مدرسہ مستحق ہے؟ یہ ہمارے والد صاحب کی ترتیب ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک بھی صحیح جگہ پیسہ لگ گیا تو اس کے صدقے سب قبول ہو جائے گا۔ اس پر رہنمائی فرمائیں کہ آیا اس طرح درست ہے؟ اس میں کچھ کمی ہو تو صحیح طرف رہنمائی فرمائیں۔

جواب: اگر کوئی مستند ادارہ کسی ادارے کے نظام زکوۃ کے درست ہونے کی تصدیق کرتا ہے٬ اور آپ کو اس ادارے کی تصدیق پر اعتماد و اطمینان ہے٬ تو آپ وہاں زکوۃ دے سکتے ہیں٬ لیکن اگر تصدیق صرف مدرسے کے وجود کی ہو٬ زکوۃ کی رقم وصول کرنے اور صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی تصدیق نہ ہو٬ تو ایسی صورت میں صرف وہ تصدیق نامہ (جس میں مدرسہ کے وجود کی تصدیق کی گئی ہو) کافی نہیں ہوگا٬ بلکہ اگر آپ کو اس ادارے کے نظام زکوۃ کے درست کا یقین یا ظن غالب ہوجائے٬ تو پھر آپ انہیں زکوۃ کی رقم دے سکتے ہیں٬ ورنہ نہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ "اگر ایک بھی صحیح جگہ پیسہ لگ گیا تو اس کے صدقے سب قبول ہوجائے گا" تو اصولی طور پر یہ بات درست نہیں ہے٬ کیونکہ جتنی زکوۃ آپ پر واجب ہو چکی ہے٬ وہ ساری رقم زکوۃ کے مصارف میں لگانا شرعا ضروری ہے٬ اگر زکوۃ کے مصرف کی تحقیق کئے بغیر ہر جگہ زکوۃ کی رقم لگائی٬ تو جو رقم مصرف کے علاوہ کسی اور جگہ لگ گئی٬ اتنی رقم کی حد تک زکوۃ ادا نہیں ہوگی٬ اس لئے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ زکوۃ دیتے وقت مستحقین سے ضروری معلومات اس حد تک لے لی جائیں، جس سے یقین یا ظن غالب ہو جائے کہ وہ مستحق زکوۃ ہے٬ یا پھر کسی مستند و معتمد ادارے کو زکوۃ دینی چاہئیے٬ جہاں شرعی اصولوں کے مطابق زکوۃ کی رقم وصول اور خرچ کی جاتی ہو۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما قال اللّٰہ تعالیٰ:

{اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآء وَالْمَسٰکِیْنِ........}

[التوبۃ: ۶۰]

وفی المصنف لعبد الرزاق:

عن الثوري قال: الرجل لا یعطي زکاۃ مالہ من یحبس علی النفقۃ من ذوي أرحامہ ولا یعطیہا في کفن میت ولا دین میت ولا بناء مسجد ولا شراء مصحف ولا یحج بہا، ولا تعطیہا مکاتبک ولا تبتاع بہا نسمۃ تحررہا ولا تعطیہا في الیہود والنصاریٰ، ولا تستأجر علیہا منہا من یحملہا لیحملہا من مکان إلی مکان"

( کتاب الزکاۃ / باب لمن الزکاۃ ۴؍۱۱۳ رقم: ۷۱۷۰)

و فی الفتاوی الہندیۃ:

"ولا یجوز أن یبنی بالزکٰوۃ المسجد، وکذا القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات"

(١؍۱۸۸ ط. دار الفکر بیروت)


وفی الشامیة:

"(دفع بتحر) لمن یظنہ مصرفاً(فبان انہ عبدہ أومکاتبہ أو حربی ولو مستأمنا أوا عادھا) لمامر (وان بان غناہ أو کونہ ذمیا او انہ ابوہ أو ابنہ او امراتہ او ھاشمی لا) یعید لانہ أتی بما فی وسعہ حتی لو دفع بلا تحرلم یجز ان أخطا"

(2/252 ط. سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 131
kisi mustanad idaray say tasdeeq shuda deeni idaray ko zakat dena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.