عنوان: پراپرٹی ایجنٹ کا پراپرٹی بیچنے والے اور خریدار دونوں سے کمیشن لینے کا شرعی حکم(107921-No)

سوال: مفتی صاحب کیا پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والا ایجنٹ اگر بیچنے والے اور خریدار کو ملادے اور بیع ہو جائے تو کیا وہ ایجنٹ دونوں سے اپنا معاوضہ لے سکتا ہے؟

جواب: مذکورہ صورت میں اگر پراپرٹی ایجنٹ/ ڈیلر پراپرٹی بیچنے والے اور خریدار دونوں کا باہم رابطہ کرادے٬ آگے خرید و فروخت کا معاملہ وہ خود طے کریں٬ تو ایسی صورت میں ایجنٹ پراپرٹی بیچنے والے اور خریدار دونوں سے باہمی رضامندی سے طے شدہ معاوضہ (کمیشن) لے سکتا ہے۔

لیکن اگر ایجنٹ کسی معاملے میں خریدار یا بیچنے والے کی طرف سے وکیل بن کر باقاعدہ خرید و فروخت کا معاملہ سرانجام دے٬ تو ایسی صورت میں وہ صرف اسی سے کمیشن لے سکتا ہے، جس کا وکیل ہے٬ دوسرے فریق سے کمیشن/اجرت کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الدر المختار مع الرد:

" وأما الدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربہا فأجرتہ علی البائع، وإن سعی بینہما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف، وتمامہ فی شرح الوہبانیة اھ...
قولہ: فأجرتہ علی البائع: ولیس لہ أخذ شیء من المشتری لأنہ ہو العاقد حقیقة، شرح الوہبانیة، وظاہرہ أنہ لا یعتبر العرف ہنا لأنہ لا وجہ لہ، قولہ: یعتبر العرف: فتجب الدلالة علی البائع أو المشتری أو علیہما بحسب العرف جامع الفصولین اھ

(کتاب البیوع: ۹۳/۷، ط: زکریا)

وفی رر الحكام شرح مجلة الأحكام:

"مصارف الدلالة :- إذا باع الدلال مالاً بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقةً، وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له، أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه، أو من المشتري أخذت منه، أو من الإثنين أخذت منهما"

1/ 272 ط.دار الجیل)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 149

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com