عنوان: سعودی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کی کٹوتی کرنے سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم(107977-No)

سوال: محترم جناب مفتی صاحب! سعودی حکومت سعودی عرب میں کاروبار کرنے والوں سے کمپنی کی سطح پر آمدنی پرزکوۃ لے لیتی ہے، اب اگر دو پارٹنر اس کاروبار میں 50 فیصد کی شرح سے شریک ہیں تو کیا وہ اپنی اس سال کی انفرادی زکوٰۃ میں 50 فیصد رقم جو سعودی حکام کو ادا کی گئی منہا کر سکتے ہیں؟ اس طرح بہت سے مقامی لوگ حکومت سے غلط بیانی کرنے سے بچ جائیں گے۔ جزاک اللہ خیرا تنقیح: محترم ! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ سعودی حکومت کے زکوۃ کاٹنے کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے؟ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ جواب تنقیح: سعودی حکومت پہلے راس المال پر 2.5 فیصد کٹوتی کرتی تھی، اب انہوں نے دوسرا فارمولا مشتہر کیا ہے، جس میں وہ sales اور expenses/ salaries وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک amount نکالتے ہیں، جس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی کٹوتی ہوتی ہے۔

جواب: اگر سعودی حکومت آپ کے مال میں سے قابل زکوٰۃ اموال کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں کاٹتی ہے، اور اسے مستحقین تک بطور تملیک پہنچاتی ہے، تو آپ کی اتنی مقدار میں زکوۃ ادا ہو جائے گی، اور آپ کو دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما فی بدائع الصنائع:

أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب

(ج: 2، ص: 53، ط: دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 181
saudi hukoomat ki taraf say zakat ki katooti karne say zakat ki adaigi ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.