عنوان: کاپی رائٹ (Copy Right) سے متلعق غیر مسلم ملک کے قانون کی پابندی کرنے کا شرعی حکم(107978-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا کاپی رائٹ کا قانون شرعی اعتبار سے صحیح ہے؟ نیز کیا غیر مسلم ممالک میں اس قانون پر عمل کرنا ضروری ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جس نے کوئی کتاب تصنیف کی ہو٬ وہی اس کا مالک ہے٬ اور وہ اپنی تصنیف کردہ کتاب سے انتفاع کا، اور اسے بازار میں لا کر اس سے نفع کمانے کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہے٬ لہٰذا مصنف کی اجازت کے بغیر اسے شائع کرنا شرعا درست نہیں٬ بالخصوص جب اس حق کو قانونی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہو٬ اور ملکی قانون کاپی رائٹ (حق طباعت) کو تحفظ فراہم کرتا ہو٬ نیز جو شخص کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے٬ تو وہ قولا ً یا عملاً یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس حکومت کے قوانین کا پابند رہے گا٬ اس معاہدے کا تقاضہ یہ ہے کہ جب تک حکومت کا حکم گناہ پر مشتمل نہ ہو٬ اور عوام یا مملکت کے مفاد میں ہو تو اس کی پابندی کی جائے٬ کاپی رائٹ کا تحفظ کرنا اصولی طور پر ایک جائز قانون ہے٬ (بشرطیکہ اس کے ناجائز ہونے کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے) لہذا کاپی رائٹ سے متعلق حکومت کے جائز قانون کی پابندی کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما بحوث في قضايا فقهية معاصرة :

"هل حق الابتكار أو حق الطباعة حق معترف به شرعا ؟ والجواب على هذا السؤال أن من سبق إلى ابتكار شيء جديد سواء كان ماديا أو معنويا ، فلا شك أنه أحق من غيره بإنتاجه لانتفاعه بنفسه ، وإخراجه إلى السوق من أجل اكتساب الأرباح ، وذلك لما روى أبو داود عن أسمر بن مضرس رضي الله عنه قال : أتيت النبي ص لى الله عليه وسلم فبايعته فقال: من سبق إلى ما لم يسبقه مسلم فهو له "

( ١ / ۱۲۲ ط. مکتبہ معارف القرآن کراچی)

وفی فقه البیوع:

"تنبیه: فالراجح عندنا , والله سبحانه وتعالى أعلم , أن حق الإبتكار والتاليف حق معتبر شرعا , فلا يجوز لأحد أن يتصرف في هذا الحق بدون إذن من المبتكر أو المؤلف , وينطبق ذلك على حقوق برامج الكمبيوتر أيضا . ولكن التعدي على هذا الحق انما يتصور إذا أنتج احد مثل ذلك المنتج أو الكتاب أو البرنامج بشكل واسع للتجارة فيه , أو بقصد الإسرتباح . أما إذا صوره الإستعماله الشخصي , أو ليهبه إلي بعض أصدقاءه بدون عوض , فإن ذلك ليس من التعدي على حق الإبتكار"

(ج1 ص116 ط: مکتبة معارف القران)

و فی تکملۃ فتح الملہم:

"وان المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ في الأمور المباحۃ، فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نہی عن أمر مباح حرم ارتکابہ، ومن ہنا صرح الفقہاء بأن طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ واجبۃ"

(۳/ ۳۲۳، ط۔أشرفیہ)

کذا فی فتاوی عثمانی: (ج٣ ص٩٠ مکتبہ معارف القرآن کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 89

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com