عنوان: غیر مسلموں سے کاروبار کرنے کیلئے فرضی طور پر غیر مسلم کے نام پر ای میل آئی ڈی بنانا (107997-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت! یہ فرمائیے کہ ایک شخص کا کاروبار غیر مسلم ممالک میں مقیم غیر مسلموں کے ساتھ ہے، تقریباً 99 فیصد بات چیت ایمیل کے ذریعے ہوتی ہے، کیا اس ایمیل میں اپنا نام غیر مسلموں والا رکھ سکتا ہے، اپنا نام مسلمانوں والا ظاہر کرنے کے مقابلے میں بظاہر ایسا کرنے سے ان غیر مسلموں سے بہتر جواب ملتا ہے۔ رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: غیر مسلموں کے ساتھ کاروبار کرنے کیلئے ای میل پر فرضی طور پر غیر مسلموں والا نام رکھنا٬ گویا غیر مسلم کے طور پر اپنی شناخت کرانا ہے٬ اور یہ بات کسی بھی طرح ایک مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ غیر مسلم کے طور پر اپنی شناخت کرائے۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ مقصد کی خاطر ای میل پر فرضی طور پر غیر مسلموں والا نام رکھنے اور غیر مسلم کے طور پر اپنی شناخت ظاہر کرنے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
باقی کاروبار میں شرعی اصول و ہدایات کی روشنی میں سچائی اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جائے٬ تو ایسا کاروبار ان شاء اللہ خیر وبرکت کا ذریعہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

لما فی مشكاة المصابيح:

"وعن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله أي الكسب أطيب؟ قال: «عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور» . رواه أحمد"
(رقم الحدیث: 2783)

وفی کشف المشكل من حديث الصحيحين:

"وقال بعض العلماء: المبرور: الذي لا يخالطه شيء من المآثم، وكذلك البيع المبرور: الذي لا شبهة فيه ولا خيانة"

(3/ 458 ط.المكتب الإسلامي٬ بيروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات وجوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com
Print Views: 65

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com