عنوان: بینک کے سود کا مصرف(108012-No)

سوال: حضرت ! کیا سیونگ اکاؤنٹ سے آنے والی سود کی رقم کسی غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر پانی کا بور کرنے کے لیے دیا جا سکتا ہے؟ واضح رہے کہ یہ اکاؤنٹ کسی غیر مسلم ملک کے بینک میں بنا ہوا ہے، اور وہاں سیونگ اکاؤنت لازمی کھولا جاتا ہے۔

جواب: واضح رہے کہ سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ سے صرف اپنی اصل رقم وصول کرنی چاہیے، اس پر ملنے والا منافع (سود ) وصول ہی نہ کیا جائے، کیونکہ جس طرح سود کا استعمال ناجائز ہے، اسی طرح سود کا وصول کرنا بھی نا جائز اور حرام ہے۔

تاہم حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا رجحان اس طرف ہے کہ غیر مسلم ممالک کے بینکوں میں رکھی ہوئی رقوم پر ملنے والے سود کو وصول کرنے کی گنجائش ہے، پھر اسے کسی مستحق زکوۃ کو بلا نیت ثواب صدقہ کر دیا جائے۔

(ماخوذ از فتاویٰ عثمانی: ٣/ ٢٦٨)

لہذا صورت مسئولہ میں اس رقم کو وصول کر کے کسی مستحق کے گھر میں پانی کی بورنگ میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما قال اللہ تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔

(سورۃ البقرة، الایة: 279,278)

وفی الصحیح لمسلم:

عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء.

(ج: 2، ص: 227)

وفی الدر المختار مع رد المحتار:

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه

(ج: 5، ص: 99، ط: دار الفکر)

وفی بذل المجہود:

یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء۔

(ج: 1، ص: 359، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 56

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com