عنوان: ہوٹل میں صفائی کے استعمال کے لیے ملنے والی کٹ (kit) گھر لے جانے کا شرعی حکم(108132-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ہوٹل میں قیام کے دوران صفائی کیلیے جو کٹس (kits) (صابن، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ) ملتی ہیں، عموماً لوگوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ یہ تو روز مرہ کے استمال کی معمولی چیز ہے اور ہوٹل والے روز نئی رکھ دیتے ہیں، اگر استعمال ہوجائے یا موجود نہ ہو اور یہ کہ اس کی قیمت تو روز کے کرائے میں شامل ہوتی ہوگی، اس لیے عموما لوگ اس کو اٹھا کر رکھ لیتے ہیں۔ کیا لوگوں کا یہ رکھ لینا درست ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ اگر ہوٹل کے مالک کی طرف سےصفائی کے استعمال کے لیے ملنے والی کٹ (kit) مسافر کو گھر لے جانے کی اجازت ہو تو مسافر کے لیے اسے گھر لے جانا جائز ہے، اور اجازت کے لیے صراحتاً کہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر مالک باوجود علم کے منع نہیں کرتا تو یہ بھی اجازت میں شمار ہوگا۔

لیکن اگر ہوٹل کے مالک کی طرف سے وہ کٹ (kit) صرف ہوٹل میں ہی استعمال کے لیے دی جاتی ہو٬ اور اسے باہر لے جانے کی اجازت نہ ہو، تو پھر اسے گھر لے جانا شرعا درست نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسندأحمد:(رقم الحدیث:20695،ط:موسسۃالرسالۃ)
"عن أبی حرة الرقاشی، عن عمہ...قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اسمعوا منی تعیشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنہ لا یحل مال امرء إلا بطیب نفس منہ".

مجلۃالاحکام العدلیۃ:(162/1،ط:نورمحمد)
(اﻟﻤﺎﺩﺓ:842) ﻳﻠﺰﻡ ﺇﺫﻥ اﻟﻮاﻫﺐ ﺻﺮاﺣﺔ ﺃﻭ ﺩﻻﻟﺔ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﺾ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 166
hotel mai safai kay istimaal kay liye milnay wali kit ghar lay janay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.