عنوان: ٍکیا "صدیق اکبر '' اور "فاروق'' حضرت علی رضی اللہ عنہ کے القاب ہیں؟(108142-No)

سوال: مفتی صاحب! آج کل ایک بات سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کہ صدیق اکبر اور فاروق اعظم کا لقب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا ہے، جبکہ ہم بچپن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے صدیق کا لقب اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے فاروقِ اعظم کا لقب پڑھتے سنتے آئے ہیں، براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے "صدیقِ اکبر" کا لقب صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمایا تھا، کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کسی دلیل کا مطالبہ کیے بغیر آپ ﷺ کی ہر بات کی تصدیق فرماتے تھے۔

۱۔سب سے پہلے آپ ﷺ کے دعوی نبوت کی تصدیق فرماکر مشرف باسلام ہوئے۔

بخاری شریف کی روایت ہے:
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله بعثني إليكم فقلتم كذبت، وقال أبو بكر صدق و واساني بنفسه وماله).
(بخاری ،حدیث نمبر:۳۶۶۱،ج:۵،ص:۵،ط:دارطوق النجاۃ)

ترجمہ:
آپﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی۔

۲۔ جب آپ ﷺ سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے، اور اپنے سفر کے بارے میں مشرکینِ مکہ کو بتایا، تو انہوں نے اعتراض کیا، لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے تصدیق فرمائی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے آپ کو "صدیق" کے لقب سے ملقب فرمایا۔

مستدرک حاکم میں روایت ہے:
أخبرني مكرم بن أحمد القاضي، ثنا إبراهيم بن الهيثم البلدي، ثنا محمد بن كثير الصنعاني، ثنا معمر بن راشد، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها قالت: " لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد الأقصى أصبح يتحدث الناس بذلك، فارتد ناس فمن كان آمنوا به وصدقوه، وسمعوا بذلك إلى أبي بكر رضي الله عنه، فقالوا: هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس، قال: أو قال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن كان قال ذلك لقد صدق، قالوا: أو تصدقه أنه ذهب الليلة إلى بيت المقدس وجاء قبل أن يصبح؟ قال: نعم، إني لأصدقه فيما هو أبعد من ذلك أصدقه بخبر السماء في غدوة أو روحة، فلذلك سمي أبو بكر الصديق «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه).
(المستدرك على الصحيحين ،حدیث نمبر:۴۴۰۷،ج:۳،ص:۶۵،ط:دارالکتب العلمیۃ))

ترجمہ:
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو مسجد اقصی تک سیر کرائی گئی اور صبح کے وقت لوگوں نے اس موضوع پر بات چیت شروع کی تو کچھ لوگ جو آپ ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ آپ کا ساتھی اس قسم کا دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی، اب آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آیا آپ ﷺ نے یہ دعویٰ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ﷺ نے ایسی بات کی ہے تو آپ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: کیا تم تصدیق کرو گے کہ آپ راتوں رات بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے پہلے واپس بھی آ گئے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! ‏‏‏‏(غور کرو کہ) میں تو ان امور میں بھی آپ کی تصدیق کرتا ہوں، جو ‏‏‏‏تمہاری سمجھ کے مطابق اس‏‏‏‏ واقعہ سے بھی مشکل اور بعید ہیں، میں تو صبح کے وقت آسمانی خبر یعنی آپ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں، وہ صبح کو ہو یا شام کو، اسی وجہ سے ابوبکر کو "صدیق" کہا گیا۔

۳۔حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن سعيد، عن قتادة، أن أنس بن مالك رضي الله عنه، حدثهم أن النبي صلى الله عليه وسلم صعد أحدا، وأبو بكر، وعمر، وعثمان فرجف بهم، فقال: اثبت أحد فإنما عليك نبي، وصديق، وشهيدان.)
(بخاری ،حدیث نمبر:۳۶۷۵،ج:۵،ص:۹،ط:دارطوق النجاۃ)

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ ﷺنے فرمایا "احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

علامہ نووی ؒ نےفرمایا کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب "صدیق"تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر ہی وہ شخصیت ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے جناب رسول اللہ ﷺکی زبانی "صدیق" کا لقب عطاء فرمایا۔

اسی طرح "فاروق" کا لقب حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے لیے خاص ہے۔

۱۔کتبِ تفسیر میں ہے:
وقال جبريل: إن عمر فرق بين الحق والباطل فلقبه النبيء صلى الله عليه وسلم )

(التحرير والتنويرلابن عاشور،ج:۵،ص:۱۰۳،ط:الدار التونسية،کذا فی تفسیر البغوی،ج:۲،ص:۲۴۳،ط: دار طيبة))

ترجمہ:
حضرت جبریل علیہ السلام نےحضرت عمر کے بارے میں فرمایا: عمر نے حق اور باطل میں تفریق کی تو آپ ﷺ نے حضرت عمر کو "فاروق" کے لقب سے ملقب فرمایا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:

یہ سند (کلبی عن ابی الصالح عن ابن عباس) کی وجہ سے اگرچہ کمزور ہے، لیکن مجاہد کی سند سے اس کو تقویت ملتی ہے۔
(فتح ا لباری، ج:۵،ص:۳۸،ط:دارالمعرفۃ)

۲۔علامہ ابن سعد ؒ نے "الطبقات الکبری" میں روایت نقل کی ہے:
أخبرنا أحمد بن محمد الأزرقي المكي ، قال : أخبرنا عبد الرحمن بن حسن ، عن أيوب بن موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه ، وهو الفاروق ، فرق الله به بين الحق والباطل).
(حدیث نمبر: ۳۷۹۱ج:۳،ص:۳۵۱،ط: مكتبة الخانجی)

ترجمہ:
حضرت ایوب بن موسی سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے حضرت عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا، اور وہی فاروق ہیں، جن کی وجہ سے اللہ تعالی نے حق اور باطل کے درمیان تفریق فرمائی۔

۳۔أخبرنا محمد بن عمر ، قال : أخبرنا أبو حزرة يعقوب بن مجاهد ، عن محمد بن إبراهيم ، عن أبي عمرو ذكوان قال : قلت لعائشة : من سمى عمر الفاروق ؟ قالت : النبي عليه السلام).
(حدیث نمبر: ۳۷۹۲،ج:۳،ص:۳۵۱،ط: مكتبة الخانجی)

ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر کا لقب "فاروق" کس نے منتخب کیا؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:جناب رسول اللہ ﷺ نے منتخب فرمایا ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لقب "فاروق" پر علماء کا اتفاق ہے۔

جن روایات سے استدال کیا جاتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے "صدیق اکبر" اور "فاروق" کا لقب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا تھا۔
اس مضمون کی روایات چھ صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت ابوذر، حضرت ابوذر، حضرت سلمان فارسی، حضرت ابن عباس، حضرت ابو لیلی غفاری اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیں۔

ذیل میں ان روایات کو ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی اسنادی حیثیت کو بھی واضح کیا جاتا ہے:

(الف) سنن ابن ماجہ میں ہے۔
عن عباد بن عبد الله، قال:قال علي: أنا عبد الله، وأخو رسوله صلى الله عليه وسلم ، وأنا الصديق الأكبر، لا يقولها بعدي إلا كذاب، صليت قبل الناس بسبع سنين
(حدیث نمبر:۱۲۰،ج:۱، ص:۷۸،ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺکا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت عباد بن عبداللہ کے طریق سے درج ذیل کتابوں میں بھی ذکر کی گئی ہے۔

۱۔السنن الکبری للبیھقی:۵ /۱۰۶(۸۳۹۵)،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۲۔مصنف ابن أبی شیبۃ:۱۷ /۱۰۶(۳۲۷۴۷)،ط: دار القبلة)

۳۔ فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل:۲ /٥٨٦(۹۹۳)ط: مؤسسة الرسالة)

۴۔الآحاد والمثانی لابن أبي عاصم: 1 / ١٤٨(۱۷۸)،ط: دار الراية)

۵۔السنۃ لابن أبي عاصم: ۲ /۵۹۸(۱۳۲۴)،ط: المكتب الإسلامي)

مستدرک للحاکم : ۳ /۱۲۰(۴۵۸۴)،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۷۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم: ۱/۸۶(۳۳۹)ط: دار الوطن)


مذکورہ بالا حدیث کا حکم:
مذکورہ بالا روایت کو حاکم نے مستدرک میں "صحیح علی شرط الشیخین" قرار دیا ہے، لیکن علامہ ذہبی ؒ نے ان پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا: یہ حدیث بخاری اور مسلم میں سے کسی کی شرائط کے مطابق نہیں ہے اور نہ ہی صحیح ہے، بلکہ یہ حدیث باطل ہے، کیونکہ اس میں "عباد بن عبد الله الأسدی" ہے، ابن المدینی نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔
(مستدرک للحاکم : ۳ /۱۲۰(۴۵۸۴)،ط: دارالکتب العلمیۃ)

اس روایت کی سند کا مدار "عباد بن عبد الله الأسدی" پر ہے، اور عباد بن عبد الله الأسدي" پر محدثین کرام نے جرح کی ہے۔

امام بخاریؒ نے فرمایا: یہ راوی محل ِنظر ہے۔
(التاریخ الکبیر للبخاری:۶؍۳۲،ط: دائرة المعارف العثمانية)

علامہ ابن جوزی نے فرمایا: ضرب ابن حنبل على حديثه عن علي أنا الصديق الأكبر وقال هو منكر.)

(تھذیب التھذیب لابن الحجر العسقلانی:۵؍۹۸،ط: مطبعة دائرة المعارف النظامية)

امام احمد بن حنبل ؒ نے عباد بن عبداللہ الاسدی کی "انا الصدیق الاکبر" والی روایت پر پابندی لگائی تھی اور فرمایا کہ یہ روای منکر ہے۔

امام ذہبیؒ نے "میزان الاعتدال" (۲؍۳۳۴،ط:الرسالۃ العالمیۃ) میں مذکورہ روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
قلت: هذا كذب على علي. یعنی یہ (بات)حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے

مذکورہ بالاحدیث کے دیگر طرق:

(الف)مذکورہ بالا حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً کئی طرق سے مروی ہے۔

۱۔ سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية، عن علي).

(الضعفا ء الکبیر للعقیلی،۲؍۱۳۰،(۶۱۶)،ط: دار الکتب العلمیۃ))

اس سند کا مدار "سليمان بن عبد الله " پر ہےاور علامہ ابن عدی ؒ نے کہا:

و سليمان يعرف بهذا الحديث، ولاَ أعرف له غيره ولم يتابع على هذه الرواية كما قاله البخاري).

(الکامل لابن عدی :۴؍۲۶۸،ط:دارالکتب العلمیۃ))

سلیمان اسی روایت سے پہچانے جاتے ہیں اور ان کی مجھے اس ایک روایت کے علاوہ کوئی روایت معلوم نہیں ہے اور اس روایت میں ان کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔

۲۔ روى عن: نوح بن قيس، عن محمد بن سلمة بن كهيل، عن أبيه، عن حبة العرني).

(الأباطيل والمناكير للجورقاني ،ج:۱،ص:۲۹۳،ط: دارالصمعی )

اس سند میں ایک روای 'محمد بن سلمہ" ہیں، جن کے بارے میں علامہ ابن عدی ؒ نے فرمایا: وہ بے اصل روایات بیان کرتا تھا اور ان کا شمار کوفہ کے شیعوں میں ہوتا تھا۔

اس سند میں ایک اور راوی "حبة العرني" ہے، ان پر سخت کلام کیا گیا ہے۔

(ب) دوسری حدیث ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہے۔

حدثنا عباد بن يعقوب العرزمي، قال: نا علي بن هاشم، قال: نا محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، عن جده أبي رافع، عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه، قال لعلي بن أبي طالب: «أنت أول من آمن بي، وأنت أول من يصافحني يوم القيامة، وأنت الصديق الأكبر، وأنت الفاروق تفرق بين الحق والباطل، وأنت يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الكفار» وهذا الحديث لا نعلمه يروى عن أبي ذر إلا من هذا الوجه، ولا روى أبو رافع، عن أبي ذر إلا هذا الحديث)

(مسند البزار،حدیث نمبر: ۳۸۹۸ ،ج:۹،ص:۳۴۲،ط: مكتبة العلوم والحكم))

امام بزار ؒ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: اس حدیث کو ہم نہیں جانتے، یہ اسی سند سے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے اور ابورافع نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سوائے اس حدیث کے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ نے "مختصر زوائد مسند البزار" میں اس حدیث کی سند پر کلام کیا کہ یہ سند بے اصل ہے اور محمد متہم ہے اور عباد راوفض کے بڑوں میں سے ہے۔

علامہ ابن حبان نے فرمایا: یہ(عباد بن یعقوب )رفض یعنی شیعت کا داعی تھا اور مشاہیر علماء سے مناکیر (غیر مسند باتیں) نقل کرتا تھا تو یہ مستحق ہے کہ اس کی روایت کو ترک کیا جائے۔
(میزان الاعتدال:۲؍۳۴۴،ط:الرسالۃ)


۲۔ مذکورہ بالا روایت حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے۔
حدثنا أبو الصلت الهروي قال حدثنا علي بن هشام قال حدثنا محمد بن عبيد الله بن أبي رافع مثله سواء، إلا أنه قال: " والمال يعسوب الظلمة
وأما الطريق الثاني: ففيه أبو الصلت الهروي وكان كذابا رافضيا خبيثا، فقد اجتمع عباد وأبو الصلت في روايته عن علي بن هاشم، فالله أعلم أيهما سرقه من صاحبه
).
(الموضوعات لابن الجوزی:۱؍۳۴۵،ط: المكتبة السلفية)

اس طریق میں "ابو الصلت ہروی" روای ہے، جس کے بارے میں علامہ ابن الجوزی ؒ فرماتے ہیں کہ وہ جھوٹا، رافضی اور خبیث تھا۔


(ج)تیسری حدیث ابوذر غفاری و سلیمان فارسی رضی اللہ عنہما سے ہے۔

حدثنا عمر وبن سعيد، عن فضيل بن مرزوق، عن أبي سخيلة، عن أبي ذر، وعن سلمان قالا: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيد علي رضي الله عنه، فقال:إن هذا أول من آمن بي، وهو أول من يصافحني يوم القيامة، وهذا الصديق الأكبر، وهذا فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهذا يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظالم
( المعجم الكبيرللطبراني، رقم : ٦١٨٤ ،ج:۶۔ص:۲۶۹،ط:مكتبة ابن تيمية، جامع المسانیدو السنن للعلامۃ ابن کثیر:۳؍۵۲۷،( ٤٣٨٨)،ط: دار خضر)

علامہ ہیثمی ؒ فرماتے ہیں: اس سند میں عمرو بن سعید راوی ضعیف ہے۔
(مجمع الفوائد للھیثمی :۹؍۱۰۲( ١٤٥٩٧)،ط: مكتبة القدسی))

(د) چوتھی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے۔
داهر بن يحيى الرازي كان ممن يغلو في الرفض ولا يتابع على حديثه
حدثنا علي بن سعيد قال: حدثني عبد الله بن داهر بن يحيى الرازي قال: حدثني أبي، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس، عن ابن عباس قال: ستكون فتنة، فإن أدركها أحد منكم فعليه بخصلتين: كتاب الله، وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو آخذ بيدي: «علي هذا أول من آمن بي، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الأكبر، وهو بابي الذي أوتى به، وهو خليفتي من بعدي


( الضعفاء الكبير للعقيلي ج:۲،ص:۴۷،ط:دارالکتب العلمیۃ))

اس سند کو علامہ عقیلی ؒ نے ذکر کرنے کے بعد فرمایا: اس کی سند میں "داهر بن يحيى" ہے، جو غالی، کٹر قسم کا شیعہ ہے اور اس کا بیٹا "عبد الله بن داهر" جھوٹا ہے اور وہ ہی "داهر بن يحيى" سے روایت نقل کرتا ہے۔

امام ذہبی ؒ نے فرمایا: اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مستغنی کیا ہے کہ ان کی شان باطل اور جھوٹی روایت گھڑ کر بیان کی جائے۔
(میزان الاعتدال:۲؍۳۷۴،ط:الرسالۃ)

(ہ)پانچویں حدیث أبو ليلى الغفاري سے ہے۔

لا يوقف له على اسم. من حديثه ما رواه إسحاق بن بشر، عن خالد بن الحارث، عن عوف، عن الحسن، عن أبي ليلى الغفاري، قال:
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ستكون بعدي فتنة، فإذا كان ذلك فالزموا علي بن أبي طالب، فإنه أول من يراني، وأول من يصافحني يوم القيامة، هوالصديق الأكبر، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب المنافقين
).

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب لأبی عمرو النمری القرطبی،ج:۴،ص: ١٧٤٤،ط:دار الجيل)

علامہ سیوطی ؒ فرماتے ہیں: اس سند میں اسحاق بن بشر کمزور راوی ہے، اور جب وہ کسی روایت کے نقل کرنے میں متفرد(اکیلے) ہوں تو ضعیف اور ثقات کی مخالفت کی وجہ سے ان کی مرویات قابلِ احتجاج نہیں ہوں گی۔
(الجامع الکبیر للسیوطی:۵؍۳۵۸،ط:دارالسعادۃ)

(ح) چھٹی حدیث حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔

کنزالعمال میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیھقیؒ اور ابن عدی ؒ کی طرف نسبت کرتے ہوئے اشارہ کیا گیا ہے۔

خلاصہ کلام:
ٍ"صدیق اکبر" اور "فاروق" حضرت علی رضی اللہ عنہ کے القاب نہیں ہیں، اور اس بارے میں پیش کیے جانے والے دلائل اور روایات بے اصل اور باطل ہیں، اور روافض کی گھڑے ہوئی (من گھڑت) روایات ہیں، لہذا صحیح یہ ہے کہ "صدیق اکبر" حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب ہے اور "فاروق" حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا لقب ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


أسباب نزول القرآن للواحدی:(ص:166،ط:دارالکتب العلمیۃ)
وقال الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس: نزلت في رجل من المنافقين كان بينه وبين يهودي خصومة، فقال اليهودي: انطلق بنا إلى محمد، وقال المنافق: بل نأتي كعب بن الأشرف - وهو الذي سماه الله تعالى الطاغوت - فأبى اليهودي إلا أن يخاصمه إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فلما رأى المنافق ذلك أتى معه إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فاختصما إليه، فقضى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لليهودي، فلما خرجا من عنده لزمه المنافق وقال: ننطلق إلى عمر بن الخطاب، فأقبلا إلى عمر، فقال اليهودي: اختصمنا أنا وهذا إلى محمد فقضى لي عليه فلم يرض بقضائه، وزعم أنه مخاصم إليك وتعلق بي فجئت إليك معه، فقال عمر للمنافق: أكذلك؟ قال: نعم، فقال لهما: رويدا حتى أخرج إليكما، فدخل عمر البيت وأخذ السيف فاشتمل عليه، ثم خرج إليهما وضرب به المنافق حتى برد، وقال: هكذا أقضي لمن لم يرض بقضاء الله وقضاء رسوله، وهرب اليهودي، ونزلت هذه الآية، وقال جبريل عليه السلام: "إن عمر فرق بين الحق والباطل"، فسمي الفاروق.

تهذيب الأسماءواللغات للنوویؒ:(281/1،ط:دارالکتب العلمیۃ)
وأجمعت الأئمة على تسميته صديقًا. قال على بن أبى طالب، رضى الله عنه: إن الله تعالى هو الذى سمى أبا بكر على لسان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صديقًا، وسبب تسميته أنه بادر إلى تصديق رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ولازم الصدق، فلم يقع منهم هناة ولا وقفة فى حال من الأحوال.

فتح الباری:(44/7،ط:دارالمعرفۃ)
وأما لقبه فهو الفاروق باتفاق

کنزالعمال:(616/11،رقم الحدیث:32988،ط:مؤسسۃالرسالۃ)
إن هذا أول من آمن بي وأول من يصافحني يوم القيامة، وهذا الصديق الأكبر، وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهذا يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظالمين - قاله لعلي. "طب - عن سلمان وأبي ذر معا؛ هق - عد - عن حذيفة

التاریخ الکبیرللبخاریؒ:(23/4،ط:دائر المعارف العثمانیۃ)
لا يُتابَعُ عليه، ولا يُعرف سماع سُليمان من مُعاذة.

الأباطيل والمناكيرللجورقاني:(293/1،ط:دارالصمعی)
وحبة لا يساوي حبة، كان غاليا في التشيع، واهيا في الحديث

العلل المتناهيةللعلامۃابن الجوزي:(261/2،ادارۃالعلوم الاثریۃ)
وقد رواه نوح عن محمد بن سلمة بن كهيل عن أبيه عن حبة العرني قال ابن عدي: "محمد بن سلمة واهي الحديث ويعد من متشيعي الكوفة

مختصرزوائد مسند البزارلابن الحجرالعسقلانی:(597/2،ط:مؤسسۃالکتب الثقافیۃ)
قلت: هذا الإسناد واهي, ومحمد متهم, وعباد من كبار الروافض, وإن كان صدوقا في الحديث

الفوائد المجموعۃللعلا مۃالشوکانی:(345/1،ط:دارالکتب العلمیۃ)
رواه الْعُقَيْلِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا. وقال: في إسناده داهر بن يحيى الرازي كان ممن يغلو في الرفض، ولا يتابع على حديثه، وابنه عبد الله بن داهر كذاب وهو الراوي عنه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 388
kia siddique e akbar or farooq hazrat ali kay alqabat hain?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.