عنوان: کیا چوری کے مال سے حج کرنے یا صدقہ و خیرات کرنے سے ثواب ملتا ہے؟(108150-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا چوری کے پیسے سے حج، زکوة، صدقہ و خیرات اور غریبوں کو کھانا کھلانے سے ثواب ملتا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک مال کے سوا کوئی مال قبو ل نہیں کرتا، اس لئے حرام مال (جیسے سود، چوری کا مال وغیرہ) سے کی گئی عبادت کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا اور نہ ہی اس پر ثواب ملتا ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص حرام مال سے حج کرتا ہے اور لبیک پکارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "لا لبيك ولا سعدیک وحجك هذا مردود عليک" یعنی تیری لبیک کی پکار ہمیں قبول نہیں اور تیرا یہ حج مسترد ہے۔ (کنز العمال، ج:5، ص:27)

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم: حدیث نمبر: 535)

لہذا چوری سے حاصل شدہ مال سے حج، صدقہ، زکوۃ اور خیرات وغیرہ کچھ بھی قبول نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس پر ثواب ملے گا، بلکہ اس مال کا حکم یہ ہے کہ اگر مالک معلوم ہو، تو اس کو واپس کردیا جائے، اور اگر مالک معلوم نہ ہو، تو ثواب کی نیت کے بغیر سارا مال صدقہ کردیا جائے۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الصحیح المسلم

و حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ

(رقم الحدیث:2346)

کذا فی الصحیح المسلم:

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ -، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو اللهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ»

(رقم الحدیث:535)

کما فی کنز العمال:

من حج بمال حرام فقال: لبيك اللهم لبيك؛ قال الله عز وجل: لا لبيك ولا سعديك وحجك مردود عليك.

(ج: 5، ص: 27، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)

وفی البحر الرائق:

وهذا كله في حج الفرض أما في حج النفل فطاعة الوالدين أولى مطلقا كما صرح به في الملتقط ويشاور ذا رأي في سفره في ذلك الوقت لا في نفس الحج فإنه خير وكذا يستخير الله في ذلك ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع أنه يسقط الفرض عنه معها

(ج: 2، ص: 332، ط: دار الکتاب الاسلامی)

کذا فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):

"(قوله: كما لو كان الكل خبيثًا) في القنية: لو كان الخبيث نصابًا لايلزمه الزكاة؛ لأنّ الكل واجب التصدق عليه فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ.ومثله في البزازية".

(ج:2، ص:291، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم،ط: دارالفکر بیروت)

وفیه أیضًا:

"و الحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب ردّه عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحلّ له ويتصدّق به بنية صاحبه".

(ج:5، ص:99، باب البیع الفاسد، مطلب في من ورث مالًا حرامًا، ط: سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 158

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.