عنوان: مردوں کے لیے سرخ رنگ کا لباس پہننے کا حکم(108199-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا مرد لال رنگ کا لباس پہن سکتا ہے، اگر نہیں پہن سکتے تو اس روایت کی کیا تطبیق ہوگی، جس میں آیا ہے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی دراز گیسوں والے شخص کو سرخ جورے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا؟ (مسلم: 2337) براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: مردوں کے لیے خالص سرخ رنگ کا لباس پہننے کے بارے میں علماء کرام کے مختلف اقوال ہیں، بعض علماء کرام خالص سرخ رنگ کا لباس مردوں کے لیے جائز سمجھتے ہیں، چنانچہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللّٰہ صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) تحریر فرماتے ہیں:
سرخ رنگ کا لباس مردوں کو استعمال کرنا اگرچہ مختلف فیہ ہے، تاہم بہت سے فقہاء جواز کے قائل ہیں۔
آنحضرت سے سرخ حلہ کا استعمال کرنا ثابت ہے، حدیث میں "حلة حمراء" کا لفظ آیا ہے۔
بعض علماء نے اس میں یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ حلہ ڈوریہ کا تھا، خالص سرخ نہیں ہوگا، مگر حدیث کے اندر یہ تصریح نہیں ہے، بہر حال سرخ رنگ کا استعمال جائز ہے۔
(کفایت المفتی،ج:9،ص:166،ط:دارالاشاعت)

جبکہ دیگر علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ خالص سرخ رنگ کا لباس مردوں کے لیے پہننا مکروہ تنزیہی (خلاف اولی) اور ناپسندیدہ ہے۔
چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب قدس اللہ سرہ لکھتے ہیں:

عورتوں کے لیے ہر قسم کا رنگ جائز ہے، اور مردوں کے لیے کسم اور زعفران کا اتفاقاً ممنوع ہے، اور سرخ میں اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک حرام، بعض کے نزدیک مباح، بعض کے نزدیک مستحب، بعض کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اور قول اخیر مفتی بہ ہے۔

(امداد الفتاوی،ج:4،ص:125،ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)

مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

احمر قانی میں اختلاف ہے، مختلف اقوال میں سے ایک قول استحباب کا بھی ہے، مگر ترجیح کراہت تنزیہہ کے قول کو ہے۔

(احسن الفتاوی،ج:8،ص:62،ط:ایچ ایم سعید کمپنی)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مفتی بہ قول کے مطابق مردوں کے لیے خالص سرخ رنگ کا لباس پہننا مکروہ تنزیہی (خلاف اولی) ہے، کیونکہ خالص سرخ رنگ کا کپڑا عموماً عورتیں پہنتی ہیں، اور مردوں کو عورتوں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔

جہاں تک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سرخ رنگ کا لباس پہننے یا سرخ چادر اوڑھنے کا تذکرہ ہے، تو اس سے مراد یمنی سرخ دھاری دھار لباس یا چادر ہے، خالص سرخ رنگ مراد نہیں ہے۔

لہذا اگر کوئی شخص خالص سرخ رنگ کا لباس پہنتا ہے، تو اس کا یہ فعل شرعی لحاظ سے اگرچہ بہتر نہیں ہے، لیکن اس کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

كذا في عمدة القاري شرح صحيح البخاري :

اﻟﺴﺎﺑﻊ: ﺗﺨﺼﻴﺺ اﻟﻤﻨﻊ ﺑﺎﻟﺜﻮﺏ اﻟﺬﻱ ﻳﺼﺒﻎ ﻛﻠﻪ ﻭﺃﻣﺎ ﻣﺎ ﻓﻴﻪ ﻟﻮﻥ ﺁﺧﺮ ﻏﻴﺮ اﻷﺣﻤﺮ ﻣﻦ ﺑﻴﺎﺽ ﻭﺳﻮاﺩ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻓﻼ ﻭﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﺗﺤﻤﻞ اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ اﻟﻮاﺭﺩﺓ ﻓﻲ اﻟﺤﻠﺔ الحمراء ﻓﺈﻥ اﻟﺤﻠﻞ اﻟﻴﻤﺎﻧﻴﺔ ﻏﺎﻟﺒﺎ ﺗﻜﻮﻥ ﺫاﺕ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ.

(ج : 22 ص: 23 ، ط : دار احیاء التراث العربی)

کذا فی مرقاۃ المفاتیح :

(ﺣﻤﺮاء) ، ﺃﻱ: ﻓﻴﻬﺎ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮ، ﻭﻟﻌﻠﻬﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﻣﻦ اﻟﺒﺮﻭﺩ اﻟﻴﻤﺎﻧﻴﺔ، ﻗﺎﻝ اﻟﻤﻈﻬﺮ: «ﻗﺪ ﻧﻬﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻋﻦ ﻟﺒﺲ اﻟﻤﻌﺼﻔﺮ ﻭﻛﺮﻩ ﻟﻬﻢ اﻟﺤﻤﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﻠﺒﺎﺱ» ، ﻭﻛﺎﻥ ﺫﻟﻚ ﻣﻨﺼﺮﻓﺎ ﺇﻟﻰ ﻣﺎ ﺻﺒﻎ ﺑﻌﺪ اﻟﻨﺴﺞ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﻄﻴﺒﻲ، ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﻤﻠﻚ: ﻗﻴﻞ ﺗﺄﻭﻳﻠﻪ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﺗﻠﻚ الحلۃ ﺣﻤﺮاء ﺟﻤﻴﻌﻬﺎ، ﺑﻞ ﻛﺎﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮ ؛ ﻷﻥ اﻟﺜﻮﺏ اﻷﺣﻤﺮ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻴﻪ ﻟﻮﻥ ﺃﺣﻤﺮ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻟﻠﺮﺟﺎﻝ، ﻟﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﻤﺸﺎﺑﻬﺔ ﺑﺎﻟﻨﺴﺎء۔

(ج : 2، ص: 240، ط : دار الفکر)


کذا فی العرف الشذی :

ﻗﻮﻟﻪ: (ﺣﻠﺔ ﺣﻤﺮاء) : الحلۃ اﻟﺮﺩاء ﻭاﻹﺯاﺭ ﻣﻦ ﺟﻨﺲ ﻭاﺣﺪ، ﻭﺃﻣﺎ ﻟﺒﺲ اﻟﺜﻮﺏ اﻷﺣﻤﺮ ﻟﻠﺮﺟﺎﻝ ﻓﺼﻨﻒ اﻟﺸﺮﻧﺒﻼﻟﻲ ﺭﺳﺎﻟﺔ ﻓﻲ ﻫﺬا، ﻭﻓﻴﻪ ﺗﺴﻌﺔ ﺃﻗﻮاﻝ، ﻓﻘﻴﻞ: ﺇﻥ اﻷﺣﻤﺮ اﻟﻘﺎﻧﻲ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻟﺒﺴﻪ، ﻭﻗﻴﻞ: ﺇﻧﻪ ﺣﺮاﻡ، ﻭﺃﻗﻮﻝ: ﺇﻥ اﻟﻤﻌﺼﻔﺮ ﻭاﻟﻤﺰﻋﻔﺮ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﺗﺤﺮﻳﻤﺎ، ﻭﺃﻣﺎ اﻷﺣﻤﺮ اﻟﻘﺎﻧﻲ ﻓﻴﻜﺮﻩ ﺗﻨﺰﻳﻬﺎ، ﻭﺃﻣﺎ ﻣﺎ ﻓﻴﻪ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮاء ﻓﻠﺒﺴﻪ ﺟﺎﺋﺰ، ﻭﻳﻤﻜﻦ ﻷﺣﺪ اﺩﻋﺎء اﺳﺘﺤﺒﺎﺑﻪ، ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺤﻠﺔ الحمراء اﻟﻤﺬﻛﻮﺭﺓ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ اﻟﺒﺎﺏ، ﻓﻘﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﻘﻴﻢ: ﺇﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﺧﻄﻮﻃﺎ ﺣﻤﺮاء، ﻭاﻟﻘﺮﻳﻨﺔ ﻋﻠﻰ ﻫﺬا ﻟﻔﻆ اﻟﺠﺮﺓ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﺫاﺕ ﺟﺪاﻭﻝ ﺣﻤﺮاء ﺗﺠﻠﺐ ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ، ﻭﻷﻥ ﻓﻲ ﺳﻨﻦ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ: «ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺷﻬﺪ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻻﺑﺴﺎ اﻟﺜﻮﺏ اﻷﺣﻤﺮ اﻟﻘﺎﻧﻲ، ﻓﻨﻬﺎﻩ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻓﺄﺣﺮﻗﻪ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ».
ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻭا ﺗﺤﻮﻳﻞ اﻟﻮﺟﻪ ﻳﻤﻨﺔ ﻭﻳﺴﺮﺓ ﻓﻲ اﻹﻗﺎﻣﺔ ﺃﻳﻀﺎ

( ج:1، ص : 212، ط : دار احیاء التراث العربی)

کذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :

ﻗﻮﻟﻪ: "ﻭﻳﻠﺒﺲ ﺃﺣﺴﻦ ﺛﻴﺎﺑﻪ" ﺃﻱ ﺃﺟﻤﻠﻬﺎ ﺟﺪﻳﺪا ﻛﺎﻥ ﺃﻭ ﻏﺴﻴﻼ ﻷﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻛﺎﻥ ﻳﻠﺒﺲ ﺑﺮﺩﺓ ﺣﻤﺮاء ﻓﻲ ﻛﻞ ﻋﻴﺪ ﻭﻫﺬا ﻳﻘﺘﻀﻲ ﻋﺪﻡ اﻻﺧﺘﺼﺎﺹ ﺑﺎﻷﺑﻴﺾ ﻭاﻟﺤﻠﺔ الحمراء ﺛﻮﺑﺎﻥ ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻴﻦ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮ ﻭﺧﻀﺮﻻ ﺃﻧﻬﺎ ﺣﻤﺮاء ﺑﺤﺖ، ﻧﻬﺮ۔  ﻭاﻟﺒﺤﺖ اﻟﺨﺎﻟﺺ ﻷﻥ اﻷﺣﻤﺮ اﻟﻘﺎﻧﻰء ﺃﻱ ﺷﺪﻳﺪ اﻟﺤﻤﺮﺓ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﺴﻴﺪ ﺑﺰﻳﺎﺩﺓ۔

(ج : 1، ص : 529، ط : دار الکتب العلمیۃ)

کذا فی البحر الرائق :

ﻭﻇﺎﻫﺮ ﻛﻼﻣﻬﻢ ﺗﻘﺪﻳﻢ اﻷﺣﺴﻦ ﻣﻦ اﻟﺜﻴﺎﺏ ﻓﻲ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭاﻟﻌﻴﺪﻳﻦ، ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺃﺑﻴﺾ، ﻭاﻟﺪﻟﻴﻞ ﺩاﻝ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻘﺪ ﺭﻭﻯ اﻟﺒﻴﻬﻘﻲ «ﺃﻧﻪ - ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﺴﻼﻡ - ﻛﺎﻥ ﻳﻠﺒﺲ ﻳﻮﻡ اﻟﻌﻴﺪ ﺑﺮﺩﺓ ﺣﻤﺮاء» ، ﻭﻓﻲ ﻓﺘﺢ اﻟﻘﺪﻳﺮ : ﻭاﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻟﺤﻠﺔ الحمراء ﻋﺒﺎﺭﺓ ﻋﻦ ﺛﻮﺑﻴﻦ ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺧﻄﻮﻁ ﺣﻤﺮ ﻭﺧﻀﺮ ﻻ ﺃﻧﻬﺎ ﺃﺣﻤﺮ ﺑﺤﺖ ﻓﻠﻴﻜﻦ ﻣﺤﻤﻞ اﻟﺒﺮﺩﺓ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ اﻩـ.
ﺑﺪﻟﻴﻞ ﻧﻬﻴﻪ - ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ - ﻋﻦ ﻟﺒﺲ اﻷﺣﻤﺮ ﻛﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻭاﻟﻘﻮﻝ ﻣﻘﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻔﻌﻞ، ﻭاﻟﺤﺎﻇﺮ ﻣﻘﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺒﻴﺢ ﻟﻮ ﺗﻌﺎﺭﺿﺎ ﻓﻜﻴﻒ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺘﻌﺎﺭﺿﺎ ﺑﺎﻟﺤﻤﻞ۔

(ج : 2، ص : 171، ط : دار الکتاب الاسلامی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com