عنوان: "صورِ اسرافیل" سے موسیقی کے جواز پر استدلال کرنا باطل ہے۔ (108254-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا جواز موسیقی پر اسرافیل علیہ السلام کی بانسری سے استدلال درست ہے؟

جواب: ۱۔ واضح رہے کہ موسیقی، گانا بجانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اور امت کے چاروں فقہاء اس مسئلے کے ناجائز ہونے پر متفق ہیں، بے شمار قرآنی آیات و احادیث نبویہ میں اس کی ممانعت بیان کی گئی ہے، ذیل میں ان آیات و احادیث میں سے چند ایک کو ذکر کیا جاتا ہے۔

(الف) اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کو شیطانی آواز قراردیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

واستفزز من استطعت منهم بصوتك وأجلب عليهم بخيلك ورجلك وشاركهم في الأموال والأولاد وعدهم وما يعدهم الشيطان إلا غرورا

(سورہ الاسراء،آیت نمبر:۶۴)

ترجمہ:
ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے، بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا اور ان کے مال اور اولاد میں سے اپنا بھی ساجھا لگا اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے، ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں، سب کے سب سراسر فریب ہیں۔

امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت کریمہ میں شیطانی آواز سے مراد موسیقی، گانے بجانا اور اس کے آلات ہیں۔

علامہ ابن قیم فرماتے ہیں: ہر وہ آواز جو بانسرى يا ڈھول وغيرہ كى ہو، وہ شيطان كى آواز ہے۔

(ب) احادیث مبارکہ میں گانا بجانے پر بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے روایت ہے کہ مجھے ابو عامر یا ابو مالک اشعری نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب میری اُمت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو زنا، ریشم ،شراب اور باجے حلال ٹہرائیں گے اور چند لوگ ایک پہاڑ کے پہلو میں اتریں گے، شام کو ان کا چرواہا ان کے جانور لے کر ان کے پاس آئے گا، تو ان کے پاس فقیر آدمی حاجت و ضرورت کے لیے آئے گا، اسے کہیں گے ہمارے پاس کل آنا، رات کو اللہ تعالیٰ ان پر پہاڑ گرا کر انہیں تباہ کر دے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور سور بنا دے گا، وہ قیامت تک اسی طرح رہیں گے۔

۲۔صور اسرافیل سے کیا مراد ہے؟

اس میں مفسرین کے دو قول ملتے ہیں:

(الف) امام ابوعبیدہ اور مقاتل فرماتے ہیں کہ صور (پیش کے ساتھ) صورۃ کی جمع ہے، جیسے کہ بُسرۃ "بُسر" کی جمع ہے، مطلب یہ ہے کہ مردوں کے جسموں میں روحیں پھونکی جائیں گی۔

(ب) جمہور مفسرین فرماتے ہیں کہ صور سے مراد "قرن" یعنی نرسنگاہ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی، اور اس بات پر اجماع ہے کہ "صور" پھونکنے والے حضرت اسرافیل علیہ السلام ہونگے۔

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں : ابو الہیثم نے فرمایا : جو کوئی صور کے سینگ ہونے کا انکار کرے، تو وہ اس کی طرح ہے، جو عرش، میزان اور پل صراط کا انکار کرتا ہے اور ان کی تاویلات تلاش کرتا ہے۔
ابن فارس نے کہا ہے: وہ صور جس کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہے، وہ سینگ کی مانند ہے، اسی میں پھونکا جائے گا اور امام ابوعبیدہ کا قول ہماری کتاب وسنت سے ذکرکردہ تفصیل کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

علامہ قرطبی سورۃ یسین کی تفسیر میں لکھتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ "الصور" واو کے سکون کے ساتھ ہے، اس سے مراد سینگ ہے، جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح توقیفاً (جس میں رائے کو دخل نہ ہو) ثابت ہے اور یہ کلام عرب میں اسی طرح معروف ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی "صور" کی وضاحت "سینگ" سے کی گئی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صور ایک سینگ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ "صور" سے مراد "قرن" یعنی سینگ ہے، مزمار یعنی بانسری نہیں ہے، لہذا جب "صوراسرافیل" سے بانسری مراد ہی نہیں ہے، تو پھر اس سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیسے کیاجاسکتا ہے؟
نیز یہ بھی واضح رہے کہ "صوراسرافیل" کوئی ترنم اور خوش الحانی کے ساتھ نہیں بجایا جائے گا، علامہ ابن کثیرؒ نے "صوراسرافیل" کی شدت اور ہولناکی کے بارے میں فرمایا کہ "صوراسرافیل" کی آواز اتنی خوفناک اور سخت ہوگی کہ پھونکتے ہی تمام جانداروں کی جانیں قبض ہوجائیں گی، یہ ایک زوردار چیخ ہوگی، پہاڑ اس سے بادلوں کی طرح چلنے لگیں گے، زمین اس طرح تھر تھرانے لگے گی، جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو، دل دھڑکنے لگیں گے اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے، لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے، مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے، بجےے بوڑھے ہوجائیں گے، لوگ پر یشان حال، حواس باختہ ہوں گے، لوگ ایک دوسرے کو پکار رہے ہونگے، مگر سوائے اللہ تعالی کے کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکے گا، سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ اچانک زمین ہر طرف سے پھٹنا شروع ہوگی اور اتنا صدمہ اور غم ہوگا، جس کو اللہ تعالی ہی جانتا ہے۔

جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں کیسے آرام کروں، جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام "صور" کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا ہی اچھا کار ساز ہے، اس اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگی کہ "صوراسرافیل" کا ترجمہ "مزمار" (بانسری) سے کرنا اور اس سے موسیقی کے جواز پراستدلال کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے، اور اگر بالفرض کوئی شخص مفسرین کی تفسیر کے برعکس "صوراسرافیل" کا ترجمہ "مزمار" (بانسری) سے کرے، تو بھی اس سے موسیقی کے جواز پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ موسیقی کی حرمت پر قرآن وحدیث میں واضح نصوص موجود ہیں اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ "صوراسرافیل" فرشتے کا فعل ہے اور فرشتے کے فعل سے شریعت کا کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا، اسی لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت عزارئیل علیہ السلام لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں، لہذا میرے لیے بھی لوگوں کو مارنا جائز ہے، جس طرح یہ استدلال بالکل غلط ہے، اسی طرح "صوراسرافیل" کا ترجمہ "مزمار" (بانسری) سے کر کے "موسیقی" کے جواز پر استدلال بھی غلط ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تفسیر القرطبی:(20/7،ط:دارالكتب المصرية)
والصور جمع صورة. وقال الجوهري: الصور القرن. قال الراجز:
لقد نطحناهم غداة الجمعين ... نطحا شديدا لا كنطح الصورين ومنه قول:" ويوم ينفخ في الصور ". قال الكلبي: لا أدري ما هو الصور. ويقال: هو جمع صورة مثل بسرة وبسر، أي ينفخ في صور الموتى والأرواح. وقرأ الحسن" يوم ينفخ في الصور". والصور (بكسر الصاد) لغة في الصور جمع صورة والجمع صوار، وصيار (بالياء) لغة فيه. وقال عمرو بن عبيد: قرأ عياض" يوم ينفخ في الصور" فهذا يعني به الخلق. والله أعلم. قلت: وممن قال إن المراد بالصور في هذه الآية جمع صورة أبو عبيدة. وهذا وإن كان محتملا فهو مردود بما ذكرناه من الكتاب والسنة

و فیہ ایضاً:(20/7،ط:دارالكتب المصرية)
والأمم مجمعة على أن الذي ينفخ في الصور إسرافيل عليه السلام. قال أبو الهيثم: من أنكر أن يكون الصور قرنا فهو كمن ينكر العرش والميزان والصراط، وطلب لها تأويلات. قال ابن فارس: الصور الذي في الحديث كالقرن ينفخ فيه

و فیہ ایضاً:(40/15،ط:دارالكتب المصرية)
والصحيح أن" الصور" بإسكان الواو. القرن، جاء بذلك التوقيف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وذلك معروف في كلام العرب

تفسیرابن کثیر:(252/3،ط:دارالکتب العلمیۃ)
واختلف المفسرون في قوله يوم ينفخ في الصور فقال بعضهم: المراد بالصور هنا، جمع صورة، أي يوم ينفخ فيها فتحيا. قال ابن جرير: كما يقال: سور لسور البلد، وهو جمع سورة، والصحيح أن المراد بالصور القرن الذي ينفخ فيه إسرافيل عليه السلام، قال ابن جرير:
والصواب عندنا ما تظاهرت به الأخبار، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أنه قال «إن إسرافيل قد التقم الصور، وحنى جبهته ينتظر متى يؤمر فينفخ»وقال الإمام أحمد: حدثنا إسماعيل حدثنا سليمان التيمي، عن أسلم العجلي، عن بشر بن شغاف، عن عبد الله بن عمرو قال: قال أعرابي يا رسول الله ما الصور؟ قال «قرن ينفخ فيه»

و فیہ ایضاً:(253/3،ط:دارالکتب العلمیۃ)
يأمر الله تعالى إسرافيل بالنفخة الأولى، فيقول: انفخ فينفخ نفخة الفزع، فيفزع أهل السموات والأرض إلا من شاء الله، ويأمره فيطيلها ويديمها ولا يفتر، وهي كقول الله وما ينظر هؤلاء إلا صيحة واحدة ما لها من فواق [ص: 15] فيسير الله الجبال، فتمر مر السحاب فتكون سرابا، ثم ترتج الأرض بأهلها رجا، فتكون كالسفينة المرمية في البحر، تضربها الأمواج تكفأ بأهلها كالقنديل المعلق في العرش ترجرجه الرياح، وهو الذي يقول يوم ترجف الراجفة تتبعها الرادفة قلوب يومئذ واجفة [النازعات: 6- 7- 8] فيميد الناس على ظهرها وتذهل المراضع وتضع الحوامل، وتشيب الولدان، وتطير الشياطين هاربة من الفزع، حتى تأتي الأقطار فتأتيها الملائكة فتضرب وجوهها، فترجع ويولي الناس مدبرين، ما لهم من أمن الله من عاصم، ينادي بعضهم بعضا، وهو الذي يقول الله تعالى: يوم التناد فبينما هم على ذلك إذ تصدعت الأرض، من قطر إلى قطر، فرأوا أمرا عظيما لم يروا مثله، وأخذهم لذلك من الكرب والهول ما الله به عليم

صحیح البخاری:(رقم الحدیث:5590،ط:دارالکتب العلمیۃ)
وقال هشام بن عمار حدثنا صدقة بن خالد حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثنا عطية بن قيس الكلابي حدثنا عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال حدثني أبو عامر - أو أبو مالك - الأشعري والله ما كذبني .سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول ( ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم يأتيهم - يعني الفقير - لحاجة فيقولوا ارجع إلينا غدا فيبيتهم الله ويضع العلم ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة )

سنن أبی داؤد:(رقم الحدیث:4742،ط:دارابن حزم)
حدَّثنا مُسدَّدُ بن مُسَرْهدِ، حدَّثنا مُعتمِرٌ، سمعتُ أبي، حدَّثنا أسلمُ، عن بِشْرِ بن شَغَافٍ عن عبدِ الله بن عمرو، عن النبيَّ - صلى الله عليه وسلم , قال: "الصُّورُ قَرنٌ يُنفَخُ فيه"

سنن الترمذی:(رقم الحدیث:3243،ط:دارالحدیث)
حدثنا سويد، قال: أخبرنا عبد الله، قال: أخبرنا خالد أبو العلاء، عن عطية، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف أنعم وصاحب القرن قد التقم القرن واستمع الإذن متى يؤمر بالنفخ فينفخ فكأن ذلك ثقل على أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لهم: قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا علی اللہ ربنا...الخ

إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان لابن قيم الجوزية:(451/1،ط:دارعالم الفوائد)
هذه الإضافة إضافة تخصيص، كما أن إضافة الخيل والرَّجِل إليه كذلك، فكل متكلم بغير طاعة الله، وبصوت يَراع أو مزمار، أو دُفّ حرام، أو طبل؛ فذلك صوت الشيطان

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 138

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.