عنوان: غیر اللہ کو "خدا" کہنے کا حکم(108288-No)

سوال: لسلام علیکم، مفتی صاحب ! میں ایک صاحب کی مالی مدد کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ میرے دو خدا ہیں، ایک اللہ اور ایک آپ۔ میں ان سے کہہ رہا ہوں کہ آپ توبہ کریں، کیونکہ یہ کھلا شرک ہے اور اللہ تعالی سے معافی مانگیں اور دوبارہ کلمہ پڑھیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان صاحب کی مزید مدد کر سکتا ہوں یا نہیں؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: "خدا" فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے اصل معنی "مالک" کے آتے ہیں، یہ عربی زبان کے لفظ "رب" کا ترجمہ ہے، اور غیر اللہ کو "رب" کہنا جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا آپ کو "خدا" کہنا جائز نہیں ہے، اسے چاہیے کہ وہ اس پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس سے اجتناب کرے، لیکن ان الفاظ کے کہنے سے وہ ایمان سے خارج نہیں ہوگا، البتہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان و نکاح کی تجدید کرلے۔

تاہم اگر مذکورہ شخص غریب ہے، تو آپ اس کی مالی امداد کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی تفسیر ابن کثیر:

"{ رَبِّ الْعَالَمِينَ } والرب هو: المالك المتصرف، ويطلق في اللغة على السيد، وعلى المتصرف للإصلاح، وكل ذلك صحيح في حق الله تعالى. ولايستعمل الرب لغير الله، بل بالإضافة تقول: رب الدار رب كذا، وأما الرب فلايقال إلا لله عز وجل".

(ج:1،ص:31)

کذا فی غیاث اللغات:

خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا‘‘۔

(ص:185)

کذا فی فتاوی جامعہ بنوری تاؤن:

(رقم الفتوی:144103200515)

وکذا فی فتاوی بینات:

(ج:1،ص:75،ط:مکتبہ بینات)

وکذا فی فتاوی مفتی محمود:

(ج:4،ص:604)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 169

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com