عنوان: ریح کے مریض کے لیے مدرسہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کا حکم(108314-No)

سوال: مفتی صاحب! مجھے گیس اور قبض کی بیماری ہے، میں مدرسہ میں داخلہ لینے کا ارادہ رکھتی ہوں، مگر وہاں پر قرآن و حدیث پڑھائے جاتے ہیں اسی دوران وقتاً فوقتاً ریح خارج ہونے کا مسئلہ رہے گا، جبکہ مسجد جیسی پاک جگہوں پر اس عمل کوناپسند کیا گیا ہے، اب میرے لئے کیا حکم ہو گا؟ میں تعلیم کیسے حاصل کروں، جبکہ میں معذور شرعی بھی نہیں ہوں؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرما دیں۔

جواب: سوال میں آپ نے اپنى بیمارى کى جس کیفیت کا ذکر کیا ہے، اس سے آپ کے "معذور شرعى" ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا مشکل ہے، اس لیے "معذور شرعى" ہونے کا اصول ذکر کیا جاتا ہے، اس کے مطابق آپ عمل کرسکتى ہیں۔

جس عارضہ میں آپ مبتلا ہیں، یعنی گیس اور قبض کى وجہ سے وضو کا برقرار نہ رہنا، اگر گیس کى وجہ سے وضو ٹوٹنے کا دورانیہ اس تسلسل کے ساتھ ہو کہ آپ کو نماز کے پورے وقت میں اتنا موقع نہیں مل پاتا، جس میں آپ وضو کرکے صرف فرض نماز بغیر عذر کے ادا کرسکیں، تو آپ شرعا معذور ہیں، اور معذور شخص کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے وقت کیلئے نیا وضو کرے، اور اس وضو سے فرض، سنن اور نوافل جتنے چاہے ادا کرے، جتنى چاہے قرآن کریم کى تلاوت کرے اور وہ قرآن کریم کو ہاتھ سے چھو بھى سکتا ہے۔

نیز معذور شرعى مدرسہ بھى جاسکتا ہے، لہذا اس دوران وضو ٹوٹنے کے عذر (ریح خارج ہونے وغیرہ) کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اور جب اس نماز کا وقت نکل جائے گا، تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اور پھر دوسری نماز کے لئے نیا وضو کرنا لازم ہوگا، اور اگر ایسی حالت نہ ہو، تو وہ شرعی معذور کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔

نوٹ:
ایک دفعہ معذور ہونے کے بعد جب تک کسی نماز کے پورے وقت میں ایک دفعہ بھی عذر پایا جائے، تو یہ معذور ہی رہے گا، اور جب کسی نماز کے پورے وقت میں ایک دفعہ بھی عذر نہ پایا جائے، تو یہ شخص شرعی معذور کے حکم سے نکل جائے گا۔


دلائل:

الدرالمختار مع حاشية ابن عابدين:(كتاب الطهارة،باب الحيض،305/1،ط:سعید)
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه ۔۔۔(إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.
وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.۔۔۔
(و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاءالاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 212
reeh ke / kay mareez ke / kay liye madrasa me / may quran pak ki taleem hasil karne / karnay ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.