عنوان: فون پر کسی کی گفتگو ریکارڈ (Record) کرکے دوسروں کو سنانے کا حکم(108322-No)

سوال: السلام علیکم، آج کل لوگ اپنے فون میں دوست احباب یا کسی سے بھی بات کرتے ہوئے ریکارڈنگ کرلیتے ہیں، پھر ایک کو دوسرے کی بات چیت سناتے ہیں اور اس سے فتنہ فساد پھیلاتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ حرکت اخلاقی طور پر غلط ہے یا نہیں؟ نیز کیا یہ حرکت خیانت میں بھی شمار ہوگی یا نہیں؟

جواب: آپس کی باتیں اور معاملات، چاہے آمنے سامنے ہوں، خط و کتابت کے ذریعے ہوں، یا موبائل اور ٹیلی فون پر ہوں، یہ سب راز کہلاتے ہیں اور یہ مجلس میں شریک شخص کے پاس امانت ہوتے ہیں، جس کو شرکائے مجلس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو بتانا خیانت ہے، اور دوسروں کو بتلاکر فساد پھیلانا چغل خوری ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ کا اعلی و افضل درجہ نہ بتلاؤں؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺّ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کو سنوارنا اور ان میں صلح کرانا (کیونکہ) لوگوں میں (مزید) فساد کرانا (لگائی بجھائی کرکے) دین ہی کا صفایا کر دیتا ہے، جس طرح اُسترہ سر سے بالوں کا صفایا کر دیتا ہے۔

ایک مسلمان تو دوسرے مسلمان کی جان و مال، عزت و آبرو کا خیال رکھتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ
مسلمان، مسلمان کے لیے آئینہ ہے اور مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے کہ اس کے نقصان کو اس سے روکتا ہے، (اس کے جان ومال کی حفاظت کرتا ہے۔) اور اس کی پیٹھ پیچھے اس کا دفاع کرتا ہے۔

اس لیے بلا اجازت فون کال کو ریکارڈ کرنا شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے، اور خیانت ہے، ایسی غیر اخلاقی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر دورانِ گفتگو کسی بات کا تعلق کسی کے جان و مال کے نقصان یا آبرو ریزی سے متعلق ہو اور قوی ندیشہ ہو کہ یہ شخص اس متعلقہ شخص کو نقصان پہنچاسکتا ہے، تو اس متعلقہ شخص کو نقصان سے بچانے کے لیے بتایا جاسکتا ہے اور اس کو ریکارڈنگ سنائی جاسکتی ہے، لیکن اس موقع پر بھی اس کی عام تشہیر اور جس کی بات ریکارڈ کی گئی ہے، اس کی تذلیل جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی سنن الترمذی:

عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة.

(حدیث نمبر:۱۹۵۹،ج:۳،ص:۴۰۵،ط: دار الغرب الاسلامی)

وفی سنن أبی داؤد:

عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المجالس بالأمانة إلا ثلاثة مجالس: سفك دم حرام، أو فرج حرام، أو اقتطاع مال بغير حق "

(حدیث نمبر:۴۸۶۹،ج:۴،ص:۲۶۸،ط:المکتبۃ العصریۃ)

وفیہ ایضاً:
عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المؤمن مرآة المؤمن، والمؤمن أخو المؤمن، يكف عليه ضيعته، ويحوطه من ورائه»

(حدیث نمبر:۴۹۱۸،ج:۴،ص:۲۸۰،ط:المکتبۃ العصریۃ)

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة؟» قالوا: بلى، يا رسول الله قال: «إصلاح ذات البين، وفساد ذات البين الحالقة»

(حدیث نمبر:۴۹۱۹،ج:۴،ص:۲۸۰،ط:المکتبۃ العصریۃ)

وفی فتح الباری لابن حجرالعسقلانیؒ:

قیل الفرق بين القتات والنمام أن النمام الذي يحضر القصة فينقلها والقتات الذي يتسمع من حيث لا يعلم به ثم ينقل ما سمعه قال الغزالي ما ملخصه ينبغي لمن حملت إليه نميمة أن لا يصدق من نم له ولا يظن بمن نم عنه ما نقل عنه ولا يبحث عن تحقيق ما ذكر له وأن ينهاه ويقبح له فعله وأن يبغضه إن لم ينزجر وأن لا يرضى لنفسه ما نهي النمام عنه فينم هو على النمام فيصير نماما قال النووي وهذا كله إذا لم يكن في النقل مصلحة شرعية وإلا فهي مستحبة أو واجبة كمن اطلع من شخص أنه يريد أن يؤذي شخصا ظلما فحذره منه وكذا من أخبر الإمام أو من له ولاية بسيرة نائبه مثلا فلا منع من ذلك وقال الغزالي ما ملخصه النميمة في الأصل نقل القول إلى المقول فيه ولا اختصاص لها بذلك بل ضابطها كشف ما يكره كشفه سواء كرهه المنقول عنه أو المنقول إليه أو غيرهما وسواء كان المنقول قولا أم فعلا وسواء كان عيبا أم لا حتى لو رأى شخصا يخفي ما له فأفشى كان نميمة ۔۔۔ النميمة نقل حال الشخص لغيره على جهة الإفساد بغير رضاه سواء كان بعلمه أم بغير علمه

(ج:۱۰،ص:۴۷۳،ط: دار المعرفة)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 24

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com