عنوان: بیٹے کو حافظ بنانے کی نذر ماننے کا حکم (8331-No)

سوال: محترم جناب مفتی صاحب! السلام عليكم،
میرے ایک دوست نے بچے کی پیدائش کے موقع پر منت مانی کہ اگر بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کو حافظ بنائیں گے۔
الحمد للہ بیٹا پیدا ہوا، بعد میں پاکستان سے باہر نوکری کے سلسلے میں بمعہ فیملی چلے گئے، وہاں کچھ حفظ کے مدارس کی کمی، دیگر مصروفیت کی وجہ سے بے توجہی اور عصری تعلیم کی اہمیت کے ماحول سے متاثر ہو کر منت پوری نہ کرسکے۔ اب اسکا کفارہ کیا ہے؟ بیٹا اب بڑا ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھ چکا ہے، مگر مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ صاحب پشیمان ہیں کہ منت پوری نہ ہونے کی وجہ سے بے برکتی ہے، بیٹے پر اس کے اثرات ہیں، لہذا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
براہ کرم جواب دیکر مشکور فرمائیں۔ والسلام

جواب: واضح رہے کہ نذر و منت صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس عمل کی نذر مانی گئی ہو، وہ کسی فرض یا واجب عمل کی جنس سے ہو، اسی طرح وہ عبادتِ مقصودہ بھی ہو، جیسے: نماز، روزہ، حج، قربانی وغیرہ، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں نذر منعقد نہیں ہوئی، کیونکہ بیٹے کو حافظِ قرآن بنانا فرض یا واجب نہیں ہے، اس لیے یہ نذر شرعاً لازم ہی نہیں ہوئی، اور جب نذر لازم ہی نہیں ہوئی، تو سائل اگر اپنے بیٹے کو حافظ قرآن نہ بنا سکا، تو گناہ گار نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (كتاب الأيمان، 736/3، ط: دار الفکر)
(ولم يلزم) الناذر (ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض وتشييع جنازة ودخول مسجد) ولو مسجد الرسول - صلى الله عليه وسلم - أو الأقصى لأنه ليس من جنسها فرض مقصود وهذا هو الضابط كما في الدرر.

المبسوط للسرخسی: (128/3، ط: دار المعرفہ)
النذر إنما يصح بما يكون قربة مقصودة فأما ما ليس بقربة مقصودة فإنه لا يصح التزامه بالنذر لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه» ؛ لأن الناذر لا يجعل ما ليس بعبادة عبادة وإنما يجعل العبادة المشروعة نفلا واجبا بنذره، وما فيه معنى القربة ولكن ليس بعبادة مقصودة بنفسها كتشييع الجنازة وعيادة المريض لا يصح التزامه بالنذر

البحر الرائق: (321/4، ط: دار الکتاب الاسلامی)
وأن شرائطه أربعة: أن لا يكون معصية لذاته فخرج النذر بصوم يوم النحر لصحة النذر به لأنه لغيره، وأن يكون من جنسه واجب، وأن يكون ذلك الواجب عبادة مقصودة، وأن لا يكون واجبا عليه قبل النذر فلو نذر حجة الإسلام لم يلزمه شيء غيرها

الھندیۃ: (الباب السادس في النذر، 208/1، ط: دار الفکر)
الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط (أحدها) أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاءالاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 255
bete ko hafiz banane ki nazar manne ka hukum / hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.