عنوان: سرکاری ملازمین کا گروپ انشورنس سے رقم لینے کا شرعی حکم(108360-No)

سوال: گورنمنٹ ملازم کی تنخواہ میں سے ہر مہینے گروپ انشورنس کے پیسے کٹتے ہیں، اگر کوئی ایکسیڈنٹ میں زخمی ہو جائے یا انتقال کرجائے تو اس کو اس اکاؤنٹ سے پیسے ملتے ہیں، لیکن اب فیصلہ ہوا ہے کہ سب کو پیسے ملیں گے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ پیسے لے سکتے ہیں؟

جواب: حکومت ملازمین کی تنخواہ سے مخصوص رقم کاٹ کر گروپ انشورنس کرواتی ہے٬ ملازمین کیلئے اس رقم کو وصول کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر حکومت گروپ انشورنس کی رقم اپنے خزانہ میں شامل کرکے پھر ملازم کو دیتی ہے٬ تو ملازم کیلئے جمع کروائی گئی اصل رقم اور اضافی رقم کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ اور اگر یہ رقم ملازم کو براہ راست انشورنس کمپنی سے وصول ہوتی ہو٬ تو ایسی صورت میں صرف اصل رقم لینا جائز ہے٬ اس پر اضافی رقم لینا جائز نہیں٬ اگر کسی نے وصول کرلی ہو٬ تو اضافی رقم صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

نیز اس میں مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر گروپ انشورنس کی مد میں تنخواہ سے کٹوتی غیر اختیاری ہو کہ ملازم نہ کٹوانا چاہے، تب بھی کاٹ لی جاتی ہو٬ تو اس کا حکم یہ ہے کہ کاٹی جانے والی اصل رقم اور ملنے والی اضافی رقم ملازم کے حق میں سود نہیں ہے٬ لہذا ملازم حکومت سے یہ رقم وصول کرسکتا ہے، لیکن اگر یہ کٹوتی اختیاری ہو اور ملازم نے اپنی مرضی اور اختیار سے کٹوتی کروائی ہو٬ تو ایسی صورت میں صرف اصل رقم وصول کرنا چاہیے، اضافی رقم اگرچہ سود نہیں ہے٬ لیکن اس میں سود کے ساتھ تشبہ پایا جاتا ہے٬ اس اضافی رقم وصول کرنے اور استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الکریم (البقرة، الآیة: 278)
" یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ "

کذا فی فتاوی عثمانی: (ج3 ص 37-336 ط. مکتبہ معارف القرآن٬ کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com