عنوان: اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنے والے کی توبہ کا حکم(108364-No)

سوال: میں 9 سال کا تھا ( بالغ نہیں تھا) غصے میں میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے توہین آمیز الفاظ کہے، بغیر یہ جان کے کہ یہ کتنا گھناؤنا ہے یا یہ مجھے اسلام کے دائرے سے نکال دے گا، لیکن اب سولہ سال کی عمر میں مجھے اپنے جرم کا احساس ہو گیا ہے، اب میں نے توبہ کر لی ہے اور اپنے ایمان کی تجدید کی ہے، کیا میری توبہ قبول ہو جائے گی؟

جواب: جی ہاں! اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا اگر صدق دل سے توبہ کرلے، اور اپنے ایمان کی تجدید کرلے، تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

کذا فی الشامیۃ:

قوله ( وقد صرح في النتف الخ ) أقول ورأيت في كتاب الخراج لأبي يوسف ما نصه وأيما رجل مسلم سب رسول الله أو كذبه أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى وبانت منه امرأته فإن تاب وإلا قتل وكذلك المرأة إلا أن أبا حنيفة قال لا تقتل المرأة وتجبر على الإسلام۔

(ج:4، ص:234، ط:سعید)

وایضا:

ان المشہور عن مالک واحمد انہ لایستتاب ولایسقط القتل عنہ وھوقول اللیث بن سعد وذکر القاضی عیاض انہ المشھور من قول السلف وجمھور العلماء وھواحد الوجھین لاصحاب الشافعی۔وحکی عن مالک واحمد انہ تقبل توبتہ وھوقول ابی حنیفۃ واصحابہ …… فھذا صریح کلام القاضی عیاض فی الشفاء والسبکی وابن تیمیۃ وائمۃ مذھبہ علی ان مذھب الحنفیۃ قبول التوبۃبلاحکایۃ قول اخرعنھم

(ج:4، ص:233)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com