عنوان: کھانے پینے کی حرام اشیاء کی ہوم ڈیلوری (Home Delivery) پر ملنے والی اجرت کا حکم(108372-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! غیر مسلم ملک میں ہوم ڈیلیوری کا کام کرنا کیسا ہے، جبکہ اس میں حرام جانوروں کا گوشت بھی پایا جاتا ہے، تو کیا ایسا کام کرنا ناجائز ہوگا اور اس سے ملنے والی رقم بھی حرام ہوگی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: ذکرہ کردہ سوال میں آپ کو حلال اشیاء کی ہوم ڈیلیوری (Home Delivery) کے بدلے جو اجرت ملتی ہے، وہ جائز اور حلال ہے، اور حرام اشیاء کی ترسیل (Delivery) کے بدلے میں جو اجرت ملتی ہے، وہ ناجائز اور حرام ہے، لہذا آپ حتی الامکان مذکورہ جگہ کام کرنے سے بچیں، اور ایسی جگہ کام کاج ڈھونڈنے کی کوشش کریں، جہاں آپ کو حلال روزگار مہیا ہو، یا پھر کمپنی کی انتظامیہ سے گزارش کریں کہ بحیثیت مسلمان آپ کے لئے حرام اشیاء کی ترسیل (Delivery) کرنا جائز نہیں ہے، تاکہ کمپنی کی انتظامیہ ایسے کام آپ کے سپرد نہ کرے، جس میں حرام اشیاء شامل ہوں، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو، تو بحالت مجبوری آپ کے لئے اس جگہ کام کرنے کی گنجائش ہے، البتہ جو اجرت آپ کو حرام اشیاء کی ترسیل (Delivery) کے بدلے حاصل ہو، اس پر توبہ و استغفار کریں، اور اس رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردیں، اس رقم کو استعمال کرنا آپ کے لئے جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن أبي داود (3/326):
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه»"


الموسوعۃ الفقہیۃ: (1/290)
ولا یجوز الاستئجار علی حمل الخمر لمن یشربہا ولا علی حمل الخنزیر۔

فتاویٰ دار العلوم کراچی: (فتویٰ نمبر: 1/1309)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com