عنوان: قرض خواہ کا علم نہ ہو تو قرضہ کی رقم کا کیا کیا جائے؟(108389-No)

سوال: السلام عليكم، میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس کسی کے پیسے ہیں اور وہ مل نہیں رہا تو ایسے پیسے کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب: پوچھے گئے سوال کی صورت میں اگر تلاش کے باوجود قرض خواہ نہ ملے، اور آئندہ اس کے ملنے کی کوئی امید بھی نہ ہو، تو قرضہ کی رقم اس شخص کی طرف سے کسی محتاج فقیر کو صدقہ کردی جائے، لیکن اگر بعد میں قرض خواہ مل جائے اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہو، تو قرضہ کی رقم اس کو واپس کرنا ہوگی، اس صورت میں صدقہ قرضدار کی طرف سے ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:


کما فی الشامیۃ:

(عَلَيْهِ دُيُونٌ وَمَظَالِمُ جَهِلَ أَرْبَابَهَا وَأَيِسَ) مَنْ عَلَيْهِ ذَلِكَ (مِنْ مَعْرِفَتِهِمْ فَعَلَيْهِ التَّصَدُّقُ بِقَدْرِهَا مِنْ مَالِهِ وَإِنْ اسْتَغْرَقَتْ جَمِيعَ مَالِهِ)۔

(ج: 4، ص: 283، ط: دار الفکر)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 140

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com