عنوان: وضو کے درمیان پڑھی جانے والی مسنون دعا کا باتھ روم میں پڑھنا(108399-No)

سوال: مفتی صاحب ! وضو کے درمیان کی دعا bathroom میں کیسے پڑھیں؟ نیز مسنون دعا بھی بتادیں۔

جواب: وضو کے درمیان درج ذیل دعا کا پڑھنا حدیث سے ثابت ہے:

"اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِی وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ"

ترجمہ: اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں وسعت عطاء فرما،اور میری روزی میں برکت عطاء فرما۔

واضح رہے کہ ذکر اللہ کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو پاک اور صاف جگہوں میں کیا جائے، گندگی اور ناپاک جگہوں میں نہ کیا جائے، چونکہ صرف لیٹرین محل نجاست ہے، اس لیے اس میں ذکر اور مسنون دعائیں پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے، البتہ اگر لیٹرین اور غسل خانہ ایک ساتھ ہوں، لیکن دونوں جگہوں کی سطح میں فرق ہو، ایک اونچی اور دوسری نیچی ہو، اور لیٹرین میں بظاھر کوئی نجاست موجود نہ ہو، تو غسل خانہ میں وضو کرتے ہوئے وضو کی مسنون دعا پڑھنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الاذکار للنووی:

عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال: اتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوضوء، فتوضأ، سمعته يدعو و يقول: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِی وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ ۔

(باب ما یقول علی وضوئہ، رقم الحدیث:66، ص:118،دارابن کثیر)

لما فی الھندیة:

قراءة القران فی الحمام علی وجھین: ان رفع صوتہ یکرہ، وان لم یرفع لا یکرہ وھو المختار، واما التسبیح والتھلیل لا باس بذلک وان رفع صوتہ، کذا فی الفتاوی الکبری۔

(کتاب الکراھیة،الباب الرابع، ج:5، ص: 316)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 194

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com