عنوان: بیماری کے خدشے اور بچہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے حمل ساقط (Abortion) کروانے کا حکم(108404-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! سوال یہ ہے کہ اگر کسی عورت کو حمل ٹھر جائے، پہلے بچے کی عمر 1 سال ہو، عورت بھی بہت کمزور ہو، اور ابھی دوبارہ بچہ پیدا کرنے سے اس کی صحت اور بھی خراب ہونے کا خدشہ ہو، حمل بھی 17 سے 18 دن کا ہو، تو کیا اس کو گرانا جائز ہوگا؟ اس عورت کے 3 بچے ہیں، سب سے چھوٹا 1 سال کا ہے۔

جواب: واضح رہے کہ کثرت اولاد کا ہونا شرعاً پسندیدہ بات ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ایسی عورتوں سے شادی کرو، جو زیادہ محبت کرنے والی ہو، زیادہ بچے جننے والی ہو، کیونکہ ( کل بروز قیامت) میں دیگر امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت کے سبب فخر کروں گا۔ (مشکوۃ: ج2، ص276)

اسی لئے شریعت نے شرعی عذر نہ ہونے کی صورت میں ہر اس عمل سے منع کیا ہے، جس سے اولاد کے حصول کا سلسلہ منقطع ہو جائے، اور یہی بات حمل ساقط کرنے میں پائی جاتی ہے، لہذا بغیر کسی شرعی عذر کے حمل ساقط کرنا جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر کسی دیانت دار ماہر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق اس حمل کی وجہ سے ماں یا اس کے بچے کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہونے یا ماں کے کسی عضو کے تلف ہو جانے کا یقین یا غالب گمان ہو، یا عورت اپنی بیماری کی وجہ سے فی الحال حمل کی متحمل نہیں ہوسکتی ہو، تو ایسی صورت میں حمل میں جان پڑ جانے سے پہلے پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے) حمل ساقط (Abortion) کروانے کی گنجائش ہے، البتہ صرف کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے حمل کا گرانا جائز نہیں ہے، کیونکہ حمل کی حالت میں ہر عورت کو کم وبیش کمزوری لاحق ہوتی ہے، لہذا حمل ساقط کروانے (Abortion) کے لئے صرف کمزوری کا عذر کافی نہیں ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

کذا فی المشکوۃ المصابیح:

عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تزجوا الودود الولود فانی مکاثر بکم الامم۔

(ج:2، ص:267، کتاب النکاح ،الفصل الثانی ط: قدیمی کراچی)

لما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):

"و يكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لايتصور."

(قوله: و يكره إلخ) أي مطلقًا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله: وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل و انقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا: يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله: حيث لايتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك.‘‘

(ج:6، ص:429، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء و غیرہ)

کذا فی الفتاوى الهندية:

’’رجل عزل عن امرأته بغير إذنها لما يخاف من الولد السوء في هذا الزمان فظاهر جواب الكتاب أن لايسعه وذكر هنا يسعه لسوء هذا الزمان كذا في الكبرى. وله منع امرأته من العزل كذا في الوجيز للكردري. وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان. العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز ... وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية. و لايجوز للمرضعة دفع لبنها للتداوي إن أضر بالصبي كذا في القنية. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان. والله أعلم‘‘.

(ج5، ص:356، کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر: في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد)

کذا فی الموسوعة الفقهیة الکویتیة:

"وذهب الحنفیة إلی إباحة إسقاط العلقة حیث أنهم یقولون بإباحة إسقاط الحمل ما لم یتخلق منه شيء ولم یتم التخلق إلا بعد مائة وعشرین یوماً، قال ابن عابدین: وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج، وکان الفقیه علي بن موسی الحنفي یقول: إنه یکره فإن الماء بعد ما وقع في الرحم مآله الحیاة، فیکون له حکم الحیاة کما في بیضة صید الحرم، قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة العذر أو أنها لاتأثم إثم القتل".

(ج:30، ص:258)

کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند:

(فتوی نمبر :47951)

کذا فی فتاویٰ دار العلوم کراچی:

(فتوی نمبر :23/1531)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 135

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com