عنوان: مختلف اجزائے ترکیبی پر مشتمل صابن استعمال کرنے کا حکم(8429-No)

سوال: ڈو (Dove) صابن پاکستان کی عام دوکانوں میں مل رہا ہے، کیا اس میں لکھے اجزا حلال ہیں اور کیا اس کا استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اگر اس صابن میں کسی نجس چیز کی ملاوٹ نہ ہو یا کسی نجس چیز کی ملاوٹ تو ہو، لیکن انقلاب ماہیت (StateChange) کی وجہ سے اس نجس چیز کی اصل ماہیت تبدیل ہوگئی ہو تو اس صابن کو استعمال کرنا جائز ہے، بصورتِ دیگر اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔
لیکن اس بات کی تحقیق کرنا کہ مذکورہ اجزائے ترکیبی میں سے کون سا جزء پاک ہے اور کونسا ناپاک؟
اس بات کی تحقیق دارالافتاء کے دائرہ کار (Domain) میں نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے مستقل حلال سرٹیفیکیشن باڈیز قائم ہیں جو مفتیان کرام اور فوڈ سائنٹسٹس پر مشتمل ہوتی ہیں، جو مختلف مصنوعات (Products) کا حلال آڈٹ کرکے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اس مصنوع میں موجود اجزائے ترکیبی حلال و پاک ہیں یا نہیں؟ لہذا اس بارے میں انہی اداروں سے رہنمائی حاصل کر لی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الهندية: (45/1، ط: دار الفكر)
جعل الدهن النجس في الصابون يفتي بطهارته؛ لأنه تغير، كذا في الزاهدي.

رد المحتار: (46/1، ط: دار الفكر)
وحاصله أنه اذا قلنا باثبات قلب الحقائق وهو الحق جاز العمل به وتعلمه؛ لأنه ليس بغش لأن النحاس ينقلب ذهبا أو فضة حقيقة. وإن قلنا: إنه غير ثابت لا يجوز؛ لأنه غش... والظاهر أن مذهبنا ثبوت انقلاب الحقائق بدليل ما ذكروه في انقلاب عين النجاسة كانقلاب الخمر خلا والدم مسكا ونحو ذلك، والله أعلم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 462 Sep 21, 2021
mukhtalif ajzai / ajzaye tarkibi per mushtamil sabun / soap istemal / estemal karne ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.