عنوان: چاندی اور تانبے وغیرہ کی دھات پر مشتمل انگوٹھی پہننے کا حکم(108528-No)

سوال: آج کل چاندی کی جو انگوٹھی بنتی ہے، جسے ٩٢٥ سٹیرلنگ چاندی کہتے ہیں، جس میں ٩٢.٥% چاندی اور ۷.٥% کاپر یا کوئی اور دھات ہوتی ہے، کیا ایسی چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ عورت کے لیے سونے چاندی اور مرد کے لیے چاندی کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی پہننا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے۔

سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ دوسری دھات انتہائی کم مقدار میں ہے اور چاندی اس پر غالب ہے، لہذا اگر دوسری دھات چاندی کے غلبے کی وجہ سے چھپ گئی ہو، تو مرد وعورت دونوں کے لیے اس انگوٹھی کے پہننے کی گنجائش ہے۔

مزید یہ کہ مردوں کے لیے صرف ایک مثقال سے کم وزن کی چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے، ایک مثقال ساڑھے چار ماشے، یعنی۴ گرام،۳۷۴ ملی گرام (4.374 gm) کا ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

سنن ابی داؤد: (باب ما جاء في خاتم الحدید،رقم الحدیث:4224، 277/4،ط: دار ابن حزم)
عن أبي ذباب عن جدہ رضي اللّٰہ عنہ قال: کان خاتم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم من حدید مَلوِيٌّ علیہ فِضۃٌ۔ قال: فرُبّما کان في یدي۔ قال: وکان المُعیقِیبُ علی خاتم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم.

الفتاوی الھندیۃ: (کتاب الکراہیۃ، الباب العاشر في استعمال الذہب والفضۃ،335/5،ط:دار الفکر)
ﻭﻓﻲ اﻟﺨﺠﻨﺪﻱ: اﻟﺘﺨﺘﻢ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺪ ﻭاﻟﺼﻔﺮ ﻭاﻟﻨﺤﺎﺱ ﻭاﻟﺮﺻﺎﺹ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻟﻠﺮﺟﺎﻝ ﻭاﻟﻨﺴﺎء ﺟﻤﻴﻌﺎ۔۔۔۔ وﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﺄﻥ ﻳﺘﺨﺬ ﺧﺎﺗﻢ ﺣﺪﻳﺪ، ﻗﺪ ﻟﻮﻱ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻀﺔ ﺃﻭ ﺃﻟﺒﺲ ﺑﻔﻀﺔ ﺣﺘﻰ ﻻ ﻳﺮﻯ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ.

بدائع الصنائع : (كتاب الاستحسان،133/5،ط:دار الکتب العلمیۃ)
(ﻭﻣﻨﻬﺎ) اﻟﻔﻀﺔ ﻷﻥ اﻟﻨﺺ اﻟﻮاﺭﺩ ﺑﺘﺤﺮﻳﻢ اﻟﺬﻫﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻳﻜﻮﻥ ﻭاﺭﺩا ﺑﺘﺤﺮﻳﻢ اﻟﻔﻀﺔ ﺩﻻﻟﺔ ﻓﻴﻜﺮﻩ ﻟﻠﺮﺟﺎﻝ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻬﺎ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﻣﺎ ﻳﻜﺮﻩ اﺳﺘﻌﻤﺎﻝ اﻟﺬﻫﺐ ﻓﻴﻪ ﺇﻻ اﻟﺘﺨﺘﻢ ﺑﻪ ﺇﺫا ﺿﺮﺏ ﻋﻠﻰ ﺻﻴﻐﺔ ﻣﺎ ﻳﻠﺒﺴﻪ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻭﻻ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺜﻘﺎﻝ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ اﻟﻨﻌﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺑﺸﻴﺮ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 123

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com