عنوان: شراکت کے کاروبار میں چھ مہینے بعد متعین نفع دینے کا شرعی حکم(108551-No)

سوال: السلام علیکم، میں نے 10 سال پہلے ایک کام پھول بیچنے کا تھا، کسی کو 30 ہزار دیے، اس نے کہا کہ میں آپ کو 6 مہینے بعد 15 ہزار دونگا، میں نے کہا کہ یہ سود ہو جائے گا، وہ بولا کہ باجی کسی مہینے کام چلتا ہے اور کسی مہنے نہی، میں ان کو برابر کردونگا، 10 سال سے میں جب وہ پیسے دیتا ہے، یہی بات کرتی ہوں کہ تم نفع زیادہ دیتے ہو، کہیں یہ سود نہ ہو، وہ یہی بولتا ہے کہ سود نہیں ہے۔ ہر مہینے انکم نہیں ہوتی ، کبھی ہوجاتی ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتی، اس لیے میں آپ کو 15 ہزار 6 مہینے کا دیتا ہوں، اب آپ مجھے بتائیں کہ ہمارا یہ کام شرعی اعتبار سے صحیح ہے؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ معاملہ کی صورت شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ معاملہ میں چھ مہینے کے بعد متعین نفع (پندرہ ہزار) طے کیا گیا ہے، جبکہ شراکت داری میں ضروری ہے کہ نفع فیصد کے اعتبار سے طے کیا جائے اور بعد میں حاصل شدہ نفع فیصد ہی کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے، لہذا اس معاملے کو ختم کرکے آئندہ کے لیے نفع باہمی رضامندی سے فیصد کے اعتبار سے طے کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

مصنف عبد الرزاق: (باب نفقۃ المضارب ووضیعتہ،رقم الحدیث:15087، 248/8،ط: المجلس العلمی- الھندی

ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﻀﺎﺭﺑﺔ: «الوضیعۃ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺎﻝ، ﻭاﻟﺮﺑﺢ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ اﺻﻄﻠﺤﻮا ﻋﻠﻴﻪ» ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺜﻮﺭﻱ ﻓﺬﻛﺮﻩ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺼﻴﻦ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﻀﺎﺭﺑﺔ، ﺃﻭ اﻟﺸﺮﻛﻴﻦ".

الفتاوی الھندیۃ: (اﻟﻔﺼﻞ اﻟﺜﺎﻧﻲ ﻓﻲ ﺷﺮﻁ اﻟﺮﺑﺢ ﻭاﻟﻮﺿﻴﻌﺔ ﻭﻫﻼﻙ اﻟﻤﺎﻝ،320/2،ط:دار الفکر)

وﺇﻥ ﻗﻞ ﺭﺃﺱ ﻣﺎﻝ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﻭﻛﺜﺮ ﺭﺃﺱ ﻣﺎﻝ اﻵﺧﺮ ﻭاﺷﺘﺮﻃﺎ اﻟﺮﺑﺢ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺴﻮاء ﺃﻭ ﻋﻠﻰ اﻟﺘﻔﺎﺿﻞ ﻓﺈﻥ اﻟﺮﺑﺢ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺸﺮﻁ، ﻭاﻟﻮﺿﻴﻌﺔ ﺃﺑﺪا ﻋﻠﻰ ﻗﺪﺭ ﺭءﻭﺱ ﺃﻣﻮاﻟﻬﻤﺎ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 121

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com