عنوان: وکیل کا مؤکل کو بتائے بغیر بقیہ رقم میں سے اپنے لیے کچھ رقم رکھنے کا حکم(108556-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر کوئی شخص کسی دوست یا رشتہ دار کا کوئی کام کرے، مثلاً: درزی سے کپڑے سلوا کر دے یا کوئی سامان خرید کر دے، یا کوئی چیز فروخت کرے، جس کا سامان ہے، اس کو بتائے بغیر کچھ پیسے رکھ لے، اور اس کو کم پیسے دے، کیا اس شخص کے لیے یہ اضافی پیسے رکھنا جائز ہوگا؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اس شخص کی حیثیت وکیل کی ہے اور وکیل شرعاً امین (امانت دار) ہوتا ہے، لہذا وکیل کے لیے مؤکل کی اجازت کے بغیر بقیہ رقم میں سے اپنے لیے کچھ رقم رکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ بقیہ پوری رقم واپس کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اگر وکیل اپنی محنت کی اجرت لینا چاہتا ہو، تو معاملہ کو صاف رکھتے ہوئے شروع میں ہی اس کام کی اجرت طے کرلے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الکریم:(سورۃ البقرۃ،الایۃ:188)
وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾

مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (الباب الثالث فی بیان احکام الوکالۃ،445/4،ط: مکتبہ رشیدیہ)
ﺇﺫا ﺷﺮﻃﺖ اﻷﺟﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﻮﻛﺎﻟﺔ ﻭﺃﻭﻓﺎﻫﺎ اﻟﻮﻛﻴﻞ اﺳﺘﺤﻖ اﻷﺟﺮﺓ، ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﺗﺸﺘﺮﻁ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ اﻟﻮﻛﻴﻞ ﻣﻤﻦ ﻳﺨﺪﻡ ﺑﺎﻷﺟﺮﺓ ﻛﺎﻥ ﻣﺘﺒﺮﻋﺎ. ﻓﻠﻴﺲ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻄﺎﻟﺐ ﺑﺎﻷﺟﺮﺓ۔

شرح مجلۃ الاحکام العدلیۃ، لخالد الاتاسی: (الباب الاول فی رکن الوکالۃ وتقسیمھا،404/4،ط: مکتبہ رشیدیہ)
اعلم ان الوکالۃ من العقود الجائزۃ الغیر اللازمۃ حتی ملک کل واحد من الوکیل والموکل العزل بدون صاحبہ۔ والوکیل امین فیما فی یدہ کالمودع فیضمن بما یضمن بہ المودع ویبرأ بہ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com